Press Release

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نا ئب صدر خالد تواب نے وزیر اعظم نو ا ز شریف کی تو جہ دلاتے ہو ئے کہا کہ

ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کرا چی(۷ مارچ ۲۰۱۶) ایف پی سی سی آئی کے سینئر نا ئب صدر خالد تواب نے وزیر اعظم نو ا ز شریف کی تو جہ دلاتے ہو ئے کہا کہ پچھلے دو سا لو ں سے ٹیکسٹا ئل منسٹر کی تیعناتی نہیں ہوئی ہے جبکہ یہ وزارت ٹیکسٹا ئل کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے ٹیکسٹا ئل کی انڈسٹری کو مزید فر و غ دینے کیلئے تشکیل کی گئی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکسٹا ئل پاکستان کی سب سے بڑی انڈسٹری ہے جو کہ لاکھو ں افراد کو روز گا ر فر ا ہم کر رہی ہے اور ٹیکسٹا ئل مصنوعات کی برآمدات کے ذریعے ملک میں فارن ایکسچینج کمانے کا ذریعہ ۔

خالد تواب ے کہا کہ ٹیکسٹا ئل سے منسلک تاجر بر ا د ری کئی مشکلات کا سا منا کر رہی ہے جس میں سیلز ٹیکس ریفنڈ، DLTL،ایکسپورٹ رننگ فنانس اور ریبٹ کے نا م پہ سینکڑوں ارب روپے حکومت کے پاس پھنسا پڑاہے ۔اور ستم ظریفی یہ ہے کہ کاروباری طبقہ اُس رقم پر بنکوں کو سود کی مد میں ادائیگی بھی کررہاہے جبکہ حکومت بغیر کسی لاگت کے اِس رقم کو استعمال کررہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ری فنڈ میں تاخیر کی وجہ سے ایکسپورٹرز کو پیداوری لاگت میں اضافہ اور ورکنگ کیپیٹل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ باوجود اِس حقیقت کہ پاکستان کے پاس GSPپلس اسٹیٹس ہے مگر اسکے باو جو د ٹیکسٹائل کی بر آمد ا ت دن بہ دن گھٹ رہی ہے اورGSPپلس سے اب تک جتنا فائدہ ہونا چاہیے تھا وہ نہیں اُٹھایا گیا۔

خالدتواب نے وزیر اعظم نو ا ز شریف سے اپیل کی کہ وہ ایک قابل ٹیکسٹا ئل منسٹرکی تقرری کریں اور منسٹری میں ٹیکسٹا ئل سے متعلق ماہرین تعینات کریں اور اِس سے ٹیکسٹا ئل ایکسپورٹ میں اِضافہ ہے اور GSPپلس سے خاطرخواہ فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے۔

مہر عالم خان
قائم مقام سیکریٹری جنرل( ایف پی سی سی آئی )