Press Release

ایف پی سی سی آئی قا نو ن بر ائے مالیاتی ذمہ دا ری اور تحدیر قر ضہ کی سختی سے نفاذ کی حا می ہے، عبدالرؤف عالم ،صدر ایف پی سی سی آئی

ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کرا چی(۱ مارچ ۲۰۱۶) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کا مر س اینڈ انڈسٹری کے صدر عبدالرؤ ف عالم نے 2015میں منظور شدہ قا نو ن بر ائے ما لیا تی ذمہ داری اور تحدیر قرضہ کے نفاذ اور اس پر عملدرآمد میں سست روی پر تشویش کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ مذکو رہ قا نو ن معیشت میں مالیاتی قواعد اور حکومت کی بینکو ں سے قر ض لینے کے حدود کا تعین کر تی ہے انہوں نے کہا کہ بیرونی قر ضہ جات کے سا تھ بیشتر منفی عوامل بھی کار فر ما ہو تے ہیں جن سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے۔جبکہ قرضوں کی واپسی کا بو جھ آنے والی نسل کو اٹھا نا پڑتا ہے۔

عبدالرؤ ف عالم نے کہا کہ ناقص منصو بہ بندی کے تحت اندرونی و بیرونی قر ضوں میں اضا فہ سے ملک میں کاروباری سر گر میاں بری طر ح سے متاثر ہو تی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت قا بل ادا قر ضو ں کی مالیت GDPکے62فیصدسے بھی زیا دہ ہے جبکہ انکی لاگت اخراجات کے40%سے زاہد ہے۔انہوں نے بتایاکہ اندرونی و بیرونی قر ضوں کی لاگت کی وجہ سے حکومت کی جنرل سیلز ٹیکس اورڈائر یکٹ ٹیکسوں اور دیگر محصو لات کے ذریعے آمدنی میں اضافہ کرنا ہو تا ہے۔جس کے نتیجہ میں ملک میں کاروباری عمل کی لاگت میں اضا فہ ہو تا ہے ۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے مزید کہا کہ حکومت زیا دہ شرح سود پرپبلک سے سرکاری تمسکات کے عوض قر ض لیتی ہے۔ جو کہ ملک میں کمر شل بینکو ں کی کم شرح سود پر سرمایہ کاری اور انڈسٹریلائزیشن کی صلاحیت کو متاثر کر تا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پر ا ئیویٹ سیکٹر زیا دہ لاگت والے قر ضو ں کے متحمل نہیں ہو سکتی کیو نکہ بزنس سیکٹرکو قر ضو ں کی لاگت اپنے منا فع میں سے ادا کر نی ہو تی ہے۔ جبکہ حکومت کو یہ لاگت پر ائیویٹ سیکٹر پر زائد محصولات کے لاگو کرنے سے حاصل ہو جاتی ہے۔

عبدالرؤف عالم نے بتایاکہ ایف پی سی سی آئی قا نو ن بر ائے مالیاتی ذمہ دا ری اور تحدیر قر ضہ کی سختی سے نفاذ کی حا می ہے تا کہ معیشت میں ڈسپیلن آئے اور
معا شی نظا م میں بہتری آئے انہوں نے کہا کہ یہ قا نو ن 2005میں پا رلیمنٹ سے منظو ر ہوا لیکن نہ حکومت اسکے نفا ذ میں سنجیدہ اور نہ ہی خرب اختلاف اس پر آزاداٹھا تی ہے ۔
مہر عالم خان
قائم مقام سیکریٹری جنرل( ایف پی سی سی آئی )