Press Release

پاکستان ایک بڑا اسلامی ملک ہے مگر عالمی حلال فوڈ مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ بہت معمولی ہے: عبدالرؤف عالم،صدر ایف پی سی سی آئی

ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کرا چی(۲۳ فروری ۲۰۱۶) صدر ایف پی سی سی آئی اور ای سی او چیمبرآف کا مرس اینڈ انڈسٹری جنا ب عبدالرؤف عالم نے کہا کہ عالمی مسلم آبا دی دنیا کی کل آبا دی کا 24فیصد ہے لیکن حقیقت میں دنیا میں حلال تجا ر ت پہ80فیصد غیر مسلم ریاستوں کا غلبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اعلی معیار کے گو شت ،پو لٹری،دودھ کی مصنوعات اور دیگر کھانے کی اشیاء سمیت حلال مصنوعات میں دنیا کے بڑے ایکسپورٹرز میں آسٹریلیا،برازیل،کینیڈا،انڈونیشیا،بھارت،ملائیشیا،فلپائن،تھائی لینڈ،نیوزی لینڈاور امریکہ شامل ہیں۔صدر نے بتایاکیا کہ مشرق وسطی میں سب سے بڑے حلال بیف ایکسپورٹرز امریکہ اور آسٹریلیا ہیں اور حلا ل چکنایکسپورٹرز میں برازیل اور فرانس شامل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تقریبا2.57ٹریلین امریکی ڈالر کی کل عالمی حلال مصنوعات کی تجارت میں پاکستان کاحصہ صرف28ملین امریکی ڈالر ہے جو کہ صرف 0.5 فیصد بنتا ہے جوکہ غیر تسلی بخش ہے۔

عبدالرؤف عالم نے گہری تشویش کا اِظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک بڑا اسلامی ملک ہے مگر عالمی حلال فوڈ مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ بہت معمولی ہے مگر یہ حیران کُن حقیقت ہے کہ عالمی حلال فوڈ مارکیٹ میں پاکستان کا حصہ بھارت سے کم ہے۔ اُنہوں نے توجیح دلاتے ہوئے کہا کہ یو ایس ڈپارٹمنٹ آف ایگریکلچر (USDA)کے مطابق، بھارت گائے کے گوشت کا دنیا میں سب سے بڑا ایکسپورٹر ہے جبکہ بھارت کی کئی ریاستوں میں گائے اور بھینسوں کے ذبح پہ پابندی عائد ہے۔

صدر نے مزید کہا کہ دنیا کی ایک تہائی مسلم آبادی غیر مسلم ممالک میں رہائش پزیر ہیں جو کہ ایک بڑی آبادی ہے۔ اُنہوں نے بتایا کہ مسلمان اپنی آمدنی جائز حلال مگر غیر سرٹیفائیڈحلال خوراک پہ خرچ کررہا ہے کیونکہ اِن کے ممالک میں سرٹیفائیڈحلال خوراک دستیاب نہیں ہے۔ اُُنہوں نے ایک تخمینے کے مطابق بتایا کہ امریکہ کے ایک سوپر اِسٹور کے شیلف میں جہاں 86غیر مصدقہ حلال مصنوعات رکھی ہوتی ہیں وہاں صرف ایک مصدقہ حلال پروڈکٹ دستیاب ہے۔

عبدالرؤف عالم نے کہا کہ حلا ل انڈسٹری اس وقت عالمی سطح پر تقریبا دو بیلن مسلم اور غیر مسلم افراد کی تو جہ کا با عث بنی ہو ئی ہے۔جوکہ تیزی سے حفظانِ صحت اور غذائیت کے اعلی معیار کے سا تھ ابھر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں عالمی حلال مارکیٹ کاایک بڑا حصہ حاصل کرنے کی بے پناہ صلاحیت مو جود ہے کیونکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس میں169ملین اعلی معیار کی لائیو اسٹاک موجود ہے جس میں74ملین گائے اور بھینس ، 95ملین بھیڑ اور بکریاں،73ہزار ٹن بھینس کا گوشت،70ہزارچھ سو ٹن مویشی گوشت ،2لاکھ ستر ہزار ٹن بکرے کا گو شت ،ایک لاکھ54ہزار ٹن بھیڑوں کا گو شت،اور650,402ٹن مر غی کا گوشت کی سالانہ پیداوار شامل ہے۔

صدرعبدالرؤف عالم نے کہا کہ پاکستان بنیادی طور پر حلال مصنوعات کی پیداواروالا ملک ہے اور عالمی حلال مارکیٹ میں خا طر خوا ہ کامیابی حاصل کر سکتاہے کیونکہ پاکستان کو وسطی ایشیا ،مشرق وسطی اور یورپی ممالک میں موجو د صارفین تک بر اہ راست رسائی حاصل ہے۔اُنہوں نے بتایا کہ FPCCI رواں سال اپریل میں جدہ میں حلال فوڈ کانفرنس میں بطور کوارگنائزر شرکت کر رہا ہے۔ جہا ں پہ حلال فوڈ کی معیشت کو تفصیلََ زیرِبحث لایا جائے گا اور اِس کے بعد یہ معاملہ اقتصادی تعاون کی تنظیم (ECO)اور ڈی 8چیمبر آف کامرس کے پلیٹ فارم پر بھی زیرِبحث لایا جائے گا۔ انہوں نے ای سی او (اکنامک کو آپر یشن آرگنا ئزیشن)اور D-8بلاک کے ذریعے حلال سرٹیفکیشن باہمی اور علاقائی حلال مصنوعات کی تجارت کو بڑھا نے کیلئے مشترکہ نظام قائم کرنے کی تجو یز دی ۔

صدر ایف پی سی سی آئی نے عالمی حلال گو شت کی صنعت میں ایک مارکیٹ لیڈر بننے کی پاکستان کی صلاحیت کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کر ا تے ہو ئے کہا کہ پاکستان 2.2ملین ٹن کی صلاحیت کے ساتھ حلال گو شت کی پیداوار کے انڈیکس میں18thپوزیشن پرہے جس میں لائیو اسٹاک کی بیماریوں سے بچاؤ کی تدابیر، ان کی صحت کی کڑی نگرانی ،آئی ایس او اور حلال گوشت کی سر ٹیفکیشن کے نظام کا نفاذ ،کولڈاِسٹو ریج کی سہولیات اور انفرااسٹر کچر کی اپ گر یڈ یشن ہی سے ممکن ہے ۔

مہر عالم خان
قائم مقام سیکریٹری جنرل( ایف پی سی سی آئی )