Press Release

Intellectual Propertyکا نظام ملکی سرمایہ کاری، تجارت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں اہم کر دار ادا کرتا ہے ۔

کرا چی ( 22-02-2017) Intellectual Propertyکا نظام ملکی سرمایہ کاری، تجارت اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں اہم کر دار ادا کرتا ہے ۔ یہ بات فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے نائب صدر عرفان احمد سروانہ نے Intellectual Property ایسو سی ایشن کی افتتا حی تقر یب کی صدارت سے خطا ب کرتے ہو ئے کہی ۔انہوں نے کہا کہ آج کا دور جب ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کی وجہ سے اشیاء کو کا پی کر نا آسان ہو گیا ہے وہاں Intellectual Propertyکے قانون کانفاذ بھی ضروری ہو گیا ہے اور عالمی سطح پر ترقی یا فتہ ممالک اور ایشیا ئی ممالک نے اسے حقیقی معنوں میں نافذ العمل کرکے اپنی تجارت اور صنعتکاری کوفروغ دیا ہے۔لیکن پاکستان میں اس کانا فذ العمل بہت ہی کمزور ہے جس کی وجہ سے ہما رے بر آمدات تنذلی کا شکار ہیں اگر اہم پاکستان میں اس پراپرٹی رائٹ کا نفاذ کر لیں تو آنے والے وقتوں میں نئی اشیاء کی دریافت اور برآمدات کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔پاکستان میں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے لیکن ان کو استعمال کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔عرفان سروانہ نے مز یدکہاکہ حکومت پاکستان نےIntellectual Property Organizationکو 2005میں بحثیت اسپیشل ادارہ قائم کیا ہے اور2012میں اس کا ایکٹ بھی نفاذ کر لیا تھا تا کہ پرا پرٹی را ئٹس بشمول کا پی رائٹس، ٹریڈ مارک اور Patentsوغیرہ کو Protectکیا جا سکے جوکہ سرمایہ کا ری کے فروغ اور ٹیکنالوجی کے دریافت میں اہم کردار ادا کریں ۔لیکن بدقسمتی سے لوگو ں میں آگا ہی نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہم Intellectualپراپرٹی رائٹس کو زیا دہ فروغ نہیں دے رہے ہیں جس کا اندازہ ہم ورلڈ اکنامک فارم کی رپورٹ 2016سے لگا سکتے ہیں جسکے مطابق اس انڈکس کے عنصر Intellectual Propertyمیں پاکستان کی رینکنگ 109ہے کل138ممالک میں جبکہ یہ رینکنگ 2013میں 106پرتھی۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں پاکستان میں Competitivenessکو فروغ دینے کی لیے سا ئنٹیفک ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر بھی تو جہ دینی چا ئیے اوراپنی ریسو رسز کو بر وقت استعمال میں لانا چا ئیے ہمیں انڈسٹریز اور یونیو رسٹریزکے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یو نیو رسٹریز میں ہونے والی ریسرچ بر وقت انڈسٹریز میں استعمال ہو۔کا پی رائٹس اور ٹریڈ مارک کے علاوہ ہما رے اشیا ء کے جغرافیائی علامتوں کا تحفظ بھی ضروری ہے۔پاکستان میں ا س جغرافیائی علا متی تحفظ قابل جو کہ 2001میں تیار کیا گیا تھا لیکن ابھی تک زیر التوا ہے جسکی عدم موجود گی کی وجہ سے پاکستان کی اشیا ء کو بین الاقوامی سطح پر اچھی قیمت نہیں ملتی اور ہما ری معیشت کو سالا نہ لا کھو ں ڈالر کا نقصان ہو تا ہے ۔ نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے کہاکہ ہم نے FPCCIکے پلیٹ فا رم سے متعدد بار وفا قی اور صو با ئی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ اس قانون کوجلد از جلد نا فذ کرے اور تاجر و ں ،صنعتکاروں کو آگا ہی بھی فراہم کرے تا کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی اشیاء کو تحفظ ملے اوربر آمدات کو فرو غ دینے میں مدد ملے ۔پاکستان کو اس وقت عالمی سطح پر بھا ر ت سے سخت مقا بلے کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان اوربھارت کی تہذیب ،تاریخ اور پیداواری طر یقے ایک جیسے ہیں ماضی میں پاکستان یہ قانون نہ ہونے کی وجہ سے عالمی سطح پر اپنی چا ول کی مارکیٹ کھو چکا ہے قدرت نے پاکستان کو تہذیب ،متنو ع جغرافیہ اور بہت سی چیزوں سے نوازا ہے اور ہما ری بہت سا زی صنعتی اور ایگر یکلچر سے متعلق اشیاء ہیں جو کہ منفرد ہیں جنھیں ہمیں عالمی سطح پر تحفظ دینے کی ضرورت ہے اور انہیں ٹریڈ مارک یا کسی دو سرے طر یقے سے رجسٹرڈ کروانے کی ضروت ہے۔اس موقع پر چیئر مین IPOپاکستان شا ہد را شد ، چیئر مین IPAPفرحان حنیف کے علاوہ کرا چی چیمبرز اور آباد کے کئی ممتا ز صنعتکارو ں نے بھی شر کت ۔

مہر عالم خان
قا ئم مقا م سیکر یٹر ی جنرل ایف پی سی سی آئی