Press Release

ایف پی سی سی آئی نے حلال انڈ سٹر ی سے متعلق انٹر ایکٹو پروگرا م کا اہتمام کیا۔

کرا چی (14-02-2017) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس انڈ سٹر ی نے حلال انڈ سٹر ی کے Potentialsاور در پیش چیلنجز پر ایک انٹر ایکٹو سیشن کا اہتما م کیا جس کی صدارات ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر مرزا اشتیاق بیگ نے کی ۔پروگرام میں معرو ف کا رو باری شخصیا ت ، ریسر چ اسکالر ز، اور ٹر یڈ با ڈیز کے نما ئند وں نے شر کت کیں ۔ مرزا اشتیاق بیگ نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں کہا کہ حلال انڈ سٹر ی ایک تیز ی سے بڑ ھتی ہو ئی صنعت ہے جو کہ دنیا بھر سے 2.4ارب لو گو ں کو اپنی جا نب متو جہ کیئے ہو ئے ہے جسکی وجہ محفو ظ ، حفظا ن صحت قا بل اعتماد اور غذائیت سے بھر پور مصنوعات کی فر اہمی ہے ۔ پاکستان ، مسلم آبادی والا ملک کے پاس موقع ہے کہ حلال اشیاء متعلق کا روبا ر کا عالمی مر کز بنے اگر حکومت اس انڈ سٹری پر تو جہ دے ۔اعداد وشما ر کا حوالہ دیتے ہو ئے انہو ں نے کہاکہ حلال اشیاء کی تجا رت تین کھر ب ڈالر سے تجا وز کر چکی ہے جبکہ پاکستان کا اس میں حصہ نہ ہو نے کے بر ابر ہے یعنی صر ف 0.25فیصد ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر پاکستان منا سب حکمت عملی اور منصو بہ بند ی کر ے تو تقر یباً 470ملین صارفین جن کا تعلق وسطی ایشیا ، مشرق وسطیٰ اور یو رپ کے ممالک سے ہے کو حلال اشیاء فرا ہم کر سکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ حلال صر ف کھانے پینے اور مشروبات تک ہی محدود نہیں بلکہ فا رما سو ٹیکل ، فو ڈ سروسز ، کاسمیٹکس ، فنانس سروسز ، لا جسٹکس ، سیا حت وغیرہ بھی اس حلال انڈ سٹری کے زمر ے میں آتے ہیں ۔ اس موقع پر جسٹس خلیل الرحمن چیئر مین پنجاب حلال ڈویلپمنٹ اتھا رٹی نے اپنی پر یز نٹیشن میں حلال تصورات ، قرآن وسنت کی روشنی میں عالمی سطح پر اسکی اہمیت، مسلم دنیا کی ذمہ داری حلال صنعتو ں کی شر یعہ کہ تحت ریگو لیشن اور عوام کے مختلف طبقا ت میں پیداواری پیدا کر نے پر زور دیا ۔ انہوں نے حکومت سے التجا کی کہ وہ حلال ڈویلپمنٹ ایجنسیز با قی تمام صو بو ں میں بھی قائم کر ے اس کے علاوہ وفاقی سطح پر بھی حلال سر ٹیفیکشن با ڈی قائم کر ے ۔انہو ں نے مزید کہاکہ حلال اشیاء پو ری طو ر پر اس وقت تک حلال نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس کے پیداوار کا پو را عمل شر عی طر یقے سے نہ ہو ۔ عام طور پر یہ ہو تا ہے کہ بہت سے حلال مینو فیکچر ر سو د پر مبنی قر ضے حلال اشیاء کی پیداوار کے لیے لیتے ہیں ۔ تو اس صو رت میں ایسی اشیاء100فیصد حلال نہیں ہو تی ۔ انہو ں نے بز نس کمیونٹی پنجا ب حلال ڈویلپمنٹ کی اپریل میں ہو نے والی کا نفر نس کی بھی دعو ت دی اس کے علاوہ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ حرام اشیا ء کی درآمد پر مکمل طو ر پر پابند ی لگا دے اور حلال اشیاء کے لیے پاکستان اپنے اسٹنڈرڈ تیا ر کرے ۔ اس کے علا وہ حلال انڈ سٹریل زونز قائم کر ے تا کہ حلال انڈ سٹری کو فر وغ دیا جا سکے ۔ مفتی یو سف عبدالرزاق سی ای او Sanhaحلال ایسو سی ایٹ پاکستان نے حلال اشیاء سے متعلق لو گو ں میں شعور پیدا کر نے اور آگاہی فرا ہم کر نے کے لیے غذا ئی اشیاء میں Critical اجزاء پر روشنی ڈا لی ، اسد سجاد سی ای او حلال ڈویلپمنٹ کو نسل (پاکستان ) اور انٹر نیشنل حلال سینٹر ( UAE) نے پاکستان نے حلال اشیاء کی ما رکیٹ اپنا شیئر کیو ں نہیں حاصل کیا پر اپنی پر یز نٹیشن دی ۔ انہو ں نے کہاکہ بھارت دنیا میں سب سے زیا دہ حلال گو شت برآمد کر نے والا ملک بن چکا ہے جبکہ تھا ئی لینڈ سب سے زیا دہ حلال اشیاء برآمد کرنے والا ملک ہے جو کہ اب 125,000سے زائد حلال سند یا فتہ اشیاء بنا چکا ہے۔ انہو ں نے کہاکہ عالمی سطح پر 80سے 85فیصد تک حلال ااشیاء کی ٹر یلین ڈالر کی برآمدات زیا دہ تر غیر مسلم کر رہے ہیں اور حلال ما رکیٹ کے تجا رتی فائد ے حاصل کر رہے ہیں ۔ انہوں نے ٹی ڈیپ ، PNAC, PSQCA,PCSIRاور دوسرے حکومت کی ایجنسیو ں پر زور دیا کہ وہ حلال انڈ سٹر ی کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر یں اور حلال گو شت کی برآمد کے لیے غیر روائتی ما رکیٹو ں کو تلاش کر یں ۔ انہوں نے ٹی ڈ یپ کو تجو یز دی کہ وہ پاکستان میں حلال ایکسپو کا بھی انعقاد کر دے اور پاکستان میں حلال سیکٹر کے برانڈ کی تشکیل نو کر ے۔ اس پروگرام میں ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور عرفا ن سروانہ اور ثا قب فیا ض مگو ں نے بھی شر کت کی ۔

مہر عالم خا ن
قائم مقام سیکر یٹری جنرل ایف پی سی سی آئی