Press Release

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے صدر زبیر طفیل نے کہاکہ

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے صدر زبیر طفیل نے کہاکہکرا چی (13-02-2017) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے صدر زبیر طفیل نے کہاکہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی FPCCI کے پلیٹ فارم سے ملکی ترقی کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر میں مشغول رہتی ہے۔ ہم ان تمام عوامل پر گہری نظر رکھتے ہوئے ان کا مناسب حل بھی پیش کرتے ہیں جو پاکستان کی ترقی کی راہ میں حائل ہیں۔ پاکستان کی بزنس کمیونٹی کشمیر پر اپنا واضع اور مستقل موقف رکھتی ہے۔ ان با توں کا اظہار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈ سٹر ی کے صدر زبیر طفیل نے ایف پی سی سی آئی کے ہیڈ آفس میں سردار مسعود خان صدر آزاد جموں وکشمیر سے میٹنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ قدیم ترین غیر حل شدہ اور بین الاقوامی طور پر روشناس ایک Conflict ہے۔ بلکہ کشمیر کا مسئلہ انڈیا کا پیدا کردا ہے اور Indian Independency Act 1947' legislated by British Parliament کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان تمام مسائل میں سے اہم ترین اور ایک ایسا مسئلہ ہے جو کئی جھگڑوں کی بنیاد بھی بن چکا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک مقبو ضہ کشمیر کا مسئلہ ’پر امن طور پر حل نہیں ہوجاتا اس خطہ میں امن برقرار رہنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ انہو ں نے مز یدکہا کہ بزنس کمیونٹی کا سب سے اہم Concernکشمیر کی معاشی سرگرمیوں اور ان کے اثرات کا کشمیریوں کی حالات زندگی پر پڑنا ہے۔ مقبو ضہ کشمیری نوجوان تصور کرتے ہیں کہ ان کی زندگی میں بہتری صرف بیرون ملک سکونت میں ہی ہے کیونکہ یہاں کہ نوجوانوں کو عزت دار روزگار کے مواقع میسر نہیں آتے ہیں۔اگر کشمیر کے مسئلہ کے اثرات کا جائیزہ لیں تو اس سے خطہ کی تجارت پر بھی بہت منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔ کیونکہ دو اہم ملک تجارت کے لیے راستے کھولنے کے لئے تیا ر نہیں ۔ جو تھوڑا بہت ٹریڈ ہوتا ہے وہ بارڈر کی کشیدہ صورت حال کی نظر ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہاں کے لوگ تجارت سے وابستہ روزگار اور دیگر فوائد سے محروم ہیں۔ انہو ں نے مزید کہاکہ میں نے بحیثیت صدر FPCCI اور ECO CCI کشمیر کے مسئلہ کوECO ممالک میں اجگر کرنے اور پاکستان کے موقف کو واضع کرنے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں ۔ جس کی وجہ سے کشمیر میں ECO ممالک کے سر مایہ کار اپنے تجارتی روابط میں اضافہ چاہتے ہیں جس کی بدولت کشمیر میں معاشی سرگرمیاں شروع ہو نگی اور یہاں کے نو جوانوں کو روزگار کے مواقع بھی حاصل ہونگے ۔اس میٹنگ میں فیڈریشن کے نائب صدورمرزر اشتیاق بیگ ، عرفان سروانہ ، الحاج دھنی بخش ، ثا قب فیا ض مگو ں کے علاوہ سینیٹر سلیم ضیا ء، شیخ خالد تواب، مرزا اختیار بیگ ،محمد اکرام راجپوت ، سینیٹرعبدالحسیب خان ، ایف پی سی سی آئی کے سیکر یٹر ی جنرل مہر عالم خان اور بڑ ی تعداد میں بز نس کمیونٹی نے شر کت کی۔ اس موقع پر سردار مسعود خان، صدر، آزاد جموں و کشمیر نے کہاکہ اس وقت مقبوضہ کشمیر کی جو حالت ہے وہ بیرونی میڈیا اور دنیا سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں ۔ اس آزادی کی جو اقوام متحدہ کی واضع قراداد کے تحت ہونی ہے ۔ کوئی نیا مطالبہ یا نئی خواہش نہیں ہے۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو حق خود ارادیت right of self-determination دیا ہے جس کے بغیر اس مسئلہ کا حل ممکن ہی نہیں ہے۔دوسری طرف دیکھا جائے تو پاکستا ن نے اس وقت موجودہ حالات میں انتہائی سمجھداری، صبر و تحمل اور دانشمندانہ طریقہ کار اپنایا ہوا ہے اگرچہ پاکستان کی سر زمین کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود پاکستان جو ایک ایٹمی قوت ہے بہت ہی برد باری کا مظاہرہ کر رہا ہے اس خطہ کو خوشحال خطہ بنانا ہے تو تجارت میں اضافہ بہت ضروری ہے۔ جس کے لئے دونوں ملکوں کو کشمیر کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراداووں کے تحت حل کر نا ہوگا۔اور یہاں پر امن قائم کرنا ہوگا۔ ورنہ اس خطہ کشمیر جس کو جنت کا روپ یعنی نظیر کہا جاتا ہے جو قدرتی دولت اور معدنیات سے مالا مال ہے۔سردار مسعود خان نے مزیدزور دیا کہ کشمیر دنیا کی بہتر ین ٹوریس پلیس ہے جہا ں ہر پاکستانی اپنی فیملی کے ساتھ سیا حت کی تفر ی کر سکتے ہیں۔

مہر عالم خا ن
قائم مقام سیکر یٹری جنرل ایف پی سی سی آئی