Press Release

ایف پی سی سی آئی نے ایکسپو رٹ پیکیج پر سیشن کا اہتمام کیا۔

کرا چی (03-02-2017) فیڈریشن آف پاکستا ن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے صدر زبیر طفیل نے فیڈریشن ہا ؤ س کرا چی میں ایک Inter-activeسیشن کا اہتما م کیا جس کا مو ضو ع 180ارب روپے کا پیکیج تھا جو کہ حال ہی میں وزیر اعظم نے برآمد ات کو بڑ ھا نے کے لیے اعلان کیاتھا اس سیشن میں معر وف کا روباری شخصیا ت اور ٹر یڈ اور انڈ سٹری سے متعلق تنظیمو ں کے نما ئند وں نے شر کت کی۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر نے اپنے خطا ب میں مختصراً اپنی وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کے ساتھ ایکسپو رٹ پیکیج سے متعلق ملا قاتو ں کے نتا ئج کی تفصیلی وضا حت کیں اور بتا یا کہ وہ وزیر اعظم سے چا ول اور دو سرے برآمدات بڑ ھنے کے سیکٹر وں سے متعلق پیکیج کی در خواست کر چکے ہیں تا کہ برآمدات بڑ ھنے کے زیادہ سے زیادہ امکا نات کا استحصال ہو سکے۔ انہوں نے اس برآمدی پیکیج کے لیے TDAPکے چیف ایگز یکٹو ایس ایم منیر کی کا وشو ں کو بھی سر اہا اور کہاکہ یہ پیکیج بنیا دی طو ر پر پا نچ زیرو ریٹڈ ایکسپو رٹ سیکٹر کے لیے ہے ۔ انہوں نے ایسو سی ایشنز سے در خو است کی کہ وہ بجٹ 2017-18سے متعلق اپنی تجا ویز جلد از جلد فیڈریشن کو بھیجیں ۔ انہوں نے ایسو سی ایشنز کے نمائندوں کو یقین دلا یا کہ ان کے مسائل اگلی میٹنگو ں کے دوران وزیر اعظم ، وزیر خزانہ اور وزیر تجا رت کے ساتھ ڈسکس کیئے جا ئیں گے۔ سیشن کے دوران فروٹ اینڈویجیٹبل کے متعلقہ ایسو سی ایشن کے نما ئندوں نے 1.25فیصد ودہو لڈنگ ٹیکس کی چھو ٹ اور کیمیکل کو ڈیو ٹی فر ی در آمدات کی درخواست کی ۔ انہوں نے مشینر ی کیجلد تصدیق کا مطا لبہ کیا کیونکہ ان کے مطابق عام طور پر انجنیرنگ ڈویلپمنٹ بو رڈ مشینر ی کی تصدیق کے لیے چھ مہینے کا وقت لے لیتا ہے ۔ انہوں نے مضر صحت اور غیر حلال شدہ جو سز کی درآمدات پر بھی پا بندی کا مطا لبہ کیا ۔ ٹیکسٹا ئل سے متعلقہ ایسو سی ایشنز کے نما ئندوں نے Level Playingفیلڈ کا مطا لبہ کی اور کہاکہ پیداواری لا گت خاص طو ر پر یو ٹیلیٹی کی قیمتیں پاکستان میں بہت زائد ہیں جسکی وجہ سے ہما ری اشیا ء بین الاقوامی سطح پر ویت نام، انڈیا ، بنگلادیش اور سر ی لنکا سے مقابلہ نہیں کر سکتی ۔انہوں نے ٹیکسٹائل مشینر ی کے ساتھ ساتھ اس کے اسپئیر پا رٹس کو بھی زیر و ریٹڈ کر نے کی در خواست کی ۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹا ئل ایسو سی ایشنز کے نمائندوں نے زور دیاکہ انہیں ان کے سیلز ٹیکس کے ریفنڈز جلد ادا کیئے جائیں جو کہ کا فی عر صے سے زیرالتواہیں ۔ اسٹیک ہو لڈرز کا کہنا تھا کہ مو جو دہ پیکیج صر ف یا رن سیکٹر کو فا ئد ہ دے گا کیو نکہ یا رن کی قیمتیں 12فیصد بڑھ چکی ہیں جبکہ بیڈ وئیر اور تو لیہ کی صنعتیں یا رن کی قیمتیں بڑ ھنے سے بہت متا ثر ہو گی ۔ مزید برآں کمر شل ایکسپورٹر ز کو بھی اس پیکیج میں شامل کیا جائے اس وقت پیکیج میں صڑ ف مینو فیکچر ز کم ایکسپو رٹرز شامل ہیں اس کے علاوہ ٹیکسٹائل پالیسی (2014-19) کے نفا ذ پر بھی زور دیا جسمیں ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے مختلف مراعات کا اعلا ن کیا گیا تھا ۔ چا ول سے متعلقہ برآمد کنند گان نے در خواست کیکہ انہیں بھی 5فیصدDLTLکی سہو لیت دی جا ئے کیونکہ یو ٹیلیٹی کی قیمتو ں کی وجہ سے ان کی بھی پیداواری لا گت بہت زیادہ ہے ۔ اس قبل فیڈریشن کے نائب صدر عرفان احمد سروانہ نے مختصراًپیکیج کے نما یاں خدوخالکی وضاحت کی اور کہاکہ جنو ری 2017سے جو ن 2017تک ڈیو ٹی اور ٹیکس ڈرابیک بلا شرا ئط دیئے جا ئیں گے اس کے بعد برآمدات میں 10فیصد اضا فے پر مراعات دی جا ئیں گی۔ عرفان سروانہ نے مزید کہاکہ پیکیج میں زیا دہ تر مراعات ٹیکسٹائل سیکٹر کو دی گئیں ہیں جو کہ پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کی GDPمیں آٹھ فیصد جبکہ برآمدات میں 50فیصد Contributedکرتا ہے۔ اس سیشن میں ایف پی سی سی آئی کے نائب صدرو مرزا اشتیاق بیگ اور ثاقب فیاض مگو ں بھی مو جودتھے۔

مہر عالم خا ن
قائم مقا م سیکر یٹری جنرل ایف پی سی سی آئی