Press Release

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈ سٹر ی کے سنیئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے فیڈریشن میں سیمنار سے خظاب کر تے ہو ئے کہاکہ

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈ سٹر ی کے سنیئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے فیڈریشن میں سیمنار سے خظاب کر تے ہو ئے کہاکہکرا چی ( 02-11-2016) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈانڈ سٹر ی کے سنیئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے فیڈریشن میں سیمنار سے خظاب کر تے ہو ئے کہاکہ بر یگیڈیررشید ملک نے جنگ جیسا ماحول پیدا کردیا ہے جب کہ ہم امن کے خواہاں ہیں اورہم امن قا ئم کرنے کی خا طر مسلح افواج عوام کے ساتھ مل کر دشمن کا مقا بلہ کر رہی ہیں اور انتہائی قیمتی جانو ں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں۔ ہما ری کا وشوں کو ساری دنیا سراہتی ہے لیکن پھر بھی ہم سے گلہ رہتا ہے کہ ہم وفا دار نہیں۔ انہوں نے کہاکہ مجھے اس بات کی بڑی خو شی ہے کہ بر یگیڈیر رشید ملک نے آج انتہائی اہم مو ضو عات کا انتخاب کیا ہے۔جس کی وجہ سے ملک میں ایک انتشار کی سی کیفیت ہے۔ اس بات میں دورائے نہیں ہو سکتیں کہ پاکستان اس وقت حالت جنگ میں ہے اور یہ جنگ اس وقت جا ری رہے گی جب تک آخری دشمن کا صفایا نہیں ہو جاتا اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ ہم سب اپنی اپنی ذمہ داری کا احساس کریں کیونکہ ہما ری کمزوری اور کو تا ہیاں دشمن کو طا قتور بنا تی ہیں۔اس موقع پر چیف ایگز TDAP ایس ایم منیر ، فیڈریشن کے نائب صدور حنیف گو ہر ، ارشد فاروق، فیصل جمال دستی کے علاوہ زبیر طفیل، گلزار فیروز، شکیل احمد ڈھینگڑا ، بر یگیڈیر رشید ملک اور بڑ ی تعداد میں بز نس کمیونٹی نے شر کت کی۔ انہوں نے کہاکہ آپ اس بات سے اتفاق کریں گے دشمن سے جنگ کرنا آسان ہوتا ہے لیکن اپنوں سے جنگ کرنی انتہائی مشکل ہو تی ہے ہمیں کسی اور ملک کی مثال دینے کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ پاکستان سے بہتر مثال نہیں دی جا سکتی یہ ماضی کے تلخ حقائق ہیں ہما ری اجتماعی غلطیوں کی وجہ سے ہما را ایک حصّہ ہم سے جدا کردیا گیا اور ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا اور آج بھی یک جہتی کا فقدان نظر آتا ہے جیساکہ میں نے اوپر یہ بات کی ہے کہ بریگیڈیر رشید ملک نے مو جو د ہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے صحیح موضو ع کا انتخاب کیا ہے ان پر میں اپنے خیالات کا مختصر اََظہار کرنا چا ہو ں گا۔سب سے پہلے انہوں نے ملٹری مسائل کی بات کی ہیمیری نظرمیں اس وقت تین بڑ ے مسائل ہیں اندرونی خطرہ سے آپ سب واقف ہیں دہشت گر دی کے واقعات کا لعدم تنظیموں کی مسلسل کاروائیاں ،سہولت کا روں کی Activitiesاور سب سے بڑھ کر سیا سی عدم استحکام اور سیا سی جماعتوں کے با ہمی اختلافات ۔اگر ہم اندرونی طو رپر کمزور ہونگے تو دشمن کو ہم پرحا و ی ہونے میں کم محنت کرنی پڑتی ہے اس کے لئے آپس میں ہم آہنگی اور یک جہتی کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ سو ل ملٹر ی تعلقات کا چر چہ ہر دور میں رہا ہے اور آج بھی یہ زیر بحث ہے ہما رے اندر چھپے ہوئے دشمن کسی حد تک کامیاب ہو تے ہوئے نظر آتے ہیں کیوں کہ ایک مخصوص گر وپ جو ہمیشہ سے ہی پاکستان کے خلاف کام کر تا رہا ہے ایک بار پھر سول ملٹری تعلقات کو خراب کرنے میں لگا ہوا ہے لیکن اس میں وہ کبھی کامیاب نہیں ہو نگے آپ نے ایک لفظ Pageسنا ہوگا ہر شام یہی سننے کو ملتا ہے کہ سول اورملٹری ایک Page پر نہیں اور یہ ثابت کرنے کی کو شش کی جا تی ہے کہ شاید فوج کوئی علیحدہ مخلوق ہے ایسا بالکل نہیں ہے پاکستان آرمی دوسرے اداروں کی طر ح حکو متِ پاکستانکا ایک اہم ادارہ ہے اس کو صرف ایک ادارہ کے طو ر پر دیکھنا چا ہیے قطع نظر اس کے کہ موجو دہ حکومت ہویا سابقہ سب نے فو ج کی ضروریات کا خیال رکھا ہے اور انہیں جدید خطوط پراستوار کرنے میں کو ئی کسر نہیں چھو ڑی یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔انہوں مزید بتا یا کے بیرونی خطر ہجب اندرونی خلفشار بڑھتا ہے تو بیرونی خطرات بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ آج ہم ہر طر ف سے گھرے ہوئے ہیں مشرقی سرحد ہویا مغربی سرحد، بھارت کی طر ف سے RAWکے ایجنٹس کی وقفے وقفے سے کا روائیاں ہمیں وقتی طو ر پر نقصان تو پہنچا سکتی ہیں لیکن ہما رے پختہ عزائم کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گی اور ہما ری جمہو ریت کا کا رواں رواں دواں رہیگا۔ا یف پی سی سی آئی کی اسٹینڈ نگ کمیٹی برا ئے اینٹی ٹیررازم اینڈ اسپیشل سیکیورٹی کے چیئر مین بر یگیڈیر رشید ملک نے کہاکہ دہشت گر دی کا شکار ہونے کے با و جود ہماری آواز کو کم وزن دیا جا تاہے اس پر قابو پانے کیلئے ہمیں سفا ر تی محاذپر جنگ کا آغاز کرنا پڑے گا تاکہ ہما ری تنہائی ختم ہو سکے ۔ہما را ازلی دشمن بھارت کھل کر دھمکیاں دیتا ہے سو چنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اسکو اسی آوازمیں جواب دیتے ہیںیا نہیں اسکا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔اب اس کا دوسرا حصّہ خطے میں آج ہمارا مقام کیا ہے ۔بھا رت توہما را دشمن ہے ہی، ایران سے بھی تعلقات معمول پر نہیں افغانستان کھل کر بھارت کی زبان بول رہا ہے ،سارک کا نفرنس کا ملتوی ہونا،بھارتی ایجنسیوں کی پاکستان میں مداخلت ایک بھارتی نیوی کے حاضر سروس افسر کا پکڑا جانا ان حالات میں بھی ہما ری شنوائی نہیں ہو تی تواسکا مطلب پھریہی نکلتا ہے کہ ہمیں ہماری خا رجہ پالیسی نئے سرے سے مر تب کرنے کی ضرورت ہے۔


مہر عالم خان
سیکر یٹر ی جنرل ایف پی سی سی آئی