Press Release

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرآف کامر س اینڈ انڈسٹری کے سنیئر بائب صدر شیخ خالد تواب نےSECPکے سمینار سے خطاب کر تے ہو ئے کہاکہ

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرآف کامر س اینڈ انڈسٹری کے سنیئر بائب صدر شیخ خالد تواب نےSECPکے سمینار سے خطاب کر تے ہو ئے کہاکہکراچی (27-12-2016) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرآف کامر س اینڈ انڈسٹری کے سنیئر بائب صدر شیخ خالد تواب نےSECPکے سمینار سے خطاب کر تے ہو ئے کہاکہ اس سمینار کا مقصد متعلقہ تاجر بر ا د ری میں با لعموم اور کار پوریٹ سیکٹر اور رجسٹرڈ کمپنیزمیں بالخصوص SECPکے نئے اقدامات جو کہ وہ کمپنیو ں کو ریگو لیٹ اور سہولیات بہم پہنچا نے کے سلسلے میں کرتی رہی ہے کہ بارے میں آگا ہی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے خوشی ہے کہ SECPمتعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور انکی نما ئندہ تنظیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتی ہے اور FPCCI اورSECPکے درمیان مثالی تعلقات ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ18 جنو ری کو بھی SECPنے ایک Sessionرکھا تھااس سے قبل اس سال کے شروع میں 18جنو ری 2016کوبھی SECPنے ڈرافٹ کمپنی بل2016پرایک سیشن ایف پی سی سی آئی کر ا چی میں رکھا تھا اور اس پر ہمارے ممبران کی رائے اور تجاویز حاصل کی تھیں۔سیمنار میں طا ہر محمود کمشنر سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان SECP، فیڈریشن کے نائب صدر ارشد فاروق ، TDAPکے چیف ایگز یکٹو ایس ایم منیر ،زبیر طفیل ، گلزار فیروز اور بڑ ی تعداد میں تاجر برادری نے شر کت ۔ شیخ خالد تواب نے بتایا کے FPCCIکا ایک اعلیٰ اختیارتی وفدنے ایس ایم منیر سا بق صدر FPCCIکی قیادت میں5مئی 2016 کواسلام آباد میں آپ کے کمیشن کا دورہ کیا تھا اور با ہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا تھا۔SECPنے حال ہی میں موجو د ہ حالات اور وقت کے جدید تقا ضو ں کی روشنی میں نیا کمپنیز بل2016تیار کیا ہے جو کہ تما م متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے مفید مشوروں کی روشنی میں موجو دہ کمپنیزآرڈیننس1984کی جگہ رائج کیا جائیگا کیونکہ 1984کاکمپنی آرڈی نینس انفا رمیشن ٹیکنالوجی کے اس زمانے میں اور ورلڈ ٹریڈ آرگنا ئزیشن اس دور میں بے کارہو چکا ہے اور اس میں بے شمار تبدیلیاں درکار تھیں یہ بل وزارت خزانہ اور قومی اسمبلی کی منظو ری کے بعد نا فذالعمل ہوگا۔ایف پی سی سی آئی کے سینئر نا ئب صدر نے کہاکہ مجھے یہ بتاتے ہوئے بڑی خو شی محسوس ہو رہی ہے کہ 1999میں جبSECPنے اپنے کام کا آغاز کیا تو اس وقت سیلیکر آج تک اپنی ریگو لیٹری اورStatutoryذمہ داری بہت مو ثر اور شفا نہ طور پر ادا کر رہی ہے SECPکی کار کر د گی کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہ ایک سرکا ری ادارہ ہے ۔اس کی کار کر د گی دیگر Public State Enterprises کیلئے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہاکہ وقت کے ساتھSECPکی ذمہ داریوں میں بھی مسلسل اضا فہ ہو تارہا ہے۔ مثلاََکیپٹل مارکیٹ میں کار پوریٹ سیکٹر کی ریگو لیشن ، انشو رنس کمپنیز،نان بینکنگ فنانس کمپنیز، کار پوریٹ اور فنانس سیکٹرکے سر وس فراہم کر نے والے مثلاََچارٹرڈ اکاؤنیٹنس،سروئیر وغیرہ کی Supervisionاور ریگو لیشن ۔خالد تواب نے کہاکہ SECPکئی اشیاء با لخصوص زرعی اشیاء کی مستقبل کی مارکیٹ اور حقیقی اکا نومی کے درمیان رابطہ کی اہمیت کے مد نظر SECPاس پر بھی کام کر رہا ہے۔ SECP میں پاکستان مر کنٹا ئل ایکسچینج لمیٹڈ (PMEX)کے پلیٹ فارم سے زرعی اشیاء کی خرید وفر و خت پر بھی کام ہو رہا ہے SECPنے چھوٹے اوردرمیانہ درجے کے تاجر و ں( (SMESکیلئے جو اصلاحات کی ہیں وہ قا بل تحسین ہے ان کے تحت انہیں کیپٹل مارکیٹ کے ذریعے سرمایہ بڑھانے کی سہولت دی گئی ہے ۔ اس موقع پر طا ہر محمود کمشنر سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان SECPنے کہاکہSECP نے کارپوریٹ سیکٹر کی آسانی کیلئے کئی مو ثر اقدمات کئے ہیں مثلاََ(ایس ای سی پی )نے چھو ٹی کمپنیو ں کی رجسٹریشن فیس اور کم سرمایہ کی حامل کمپنیو ں کی فا ئلنگ فیس میں واضح کمی ،کمپنیوں کو ان کی رجسٹریشن پر کمپنی کی تشکیل کے دستا ویزات اور دیگر دستور ی گو شواروں کی مصدقہ اصل نقول کی بلا معا و ضہ فراہمی ، تیز ترین رجسٹریشن کے نظام کے تحت انکا پور یشن کا وقت بھی چار گھنٹے سے کم کر کے دو گھنٹے کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ گلگت میں کمپنی رجسٹریشن دفتر کا قیام سیالکوٹ ،ایبٹ آباد اور گوادر میں سہولتی کااؤنٹر ز کا آغاز کیا ہے۔آن لائن فنڈز ٹرانسفر اور کریڈ ٹ کارڈز کے ذریعے فیس کی آن لائن ادائیگی اور نیفت (NAFT)سے آن لائن ڈیجیٹل دستخطو ں کا حصول غیر ملکیو ں کو سہولت دینے کیلئے فراہم کئے گئے ہیں کمیشن نے کسی اضا فی فیس کے بغیر کمپنی کی اسی دن لائن انکارپوریشن کا بھی آغاز کیا ہے۔

مہر عالم خان
قائمقام سیکر یٹر ی جنرل ایف پی سی سی آئی