Press Release

۱ یف پی سی سی آئی نے پاکستان ایران FTAپر زوردیا

کراچی ( 06-10-2016) شیخ خالدتواب سینئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے پاکستان اور ایران کے درمیان FTA پر زوردیا اور کہاFTAسے نہ صرف با ہمی تجارت بڑھے گی بلکہ یہ پاکستان اورایران کے درمیان اسمگلنگ کو بھی ختم کردے گاجو کہ اس وقت باضا بطہ اور قا نو نی تجارت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس وقت پاکستا ن اور ایران کے درمیان تر جیحی تجا ر تی معاہدہ PTA))ہے جس میں 18فیصد اشیاء پر ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے لیکن اس معاہدے پر صحیح طر یقے سے عمل درآمد ایران پرلگی ہوئی عالمی پا بندیوں کی وجہ سے نہیں ہو سکا اور پاکستان ایران میں اپنی آم،کینو ،چا ول اور دو سری زرعی اشیا ء کی مارکیٹ کھو چکا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی تنظیموں میں جیساکہ D-8،ای سی او ،او آئی سی، جی24-،اور جی77-میں اہم کر دار ادا کررہا ہے اور پاکستان بھی ان اہم تنظیموں کا ممبر ملک ہے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ مضبو ط تجا ر تی اورکاروبا ری تعلقات نہ صرف پاکستان میں معا شی اور اقتصادی بہتری لائیں گے بلکہ اس سے خطے میں استحکا م اور معاشی و اقتصادی خو شحالی آئیگی۔انہوں نے کہا کہ دونو ں ممالک کو چا ہئے کہ وہ زمینی راستوں سے تجارت کو فروغ دیں اور موجود ہ تجا رتی راستے تا فتان میر جاوی کے علاوہ نئے تجا رتی راستے جیساکہGabd-ReemdanاورMand-Pashinکو بھی تجا رت کے فروغ کیلئے کھو لیں اس سے بلوچستان کی معیشت میں بہتری آئیگی۔بین الاقوامی سطح پر یہ بات ثابت ہو چکی ہے نئے زمینی راستے ہمسا یہ ممالک کے درمیان تجا ر ت کوفروغ دیتے ہیں۔ جوکہ ہم بھارت کے کیس میں دیکھ سکتے ہیں کہ اس نے بنگلہ دیش اور نیپال کے ساتھ تجارت کے فروغ کیلئے زیا دہ سے زیاد ہ زمینی راستوں کو استعمال کیا۔اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے شیخ خالدتواب نے کہا کہ اس وقت دونو ں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کا حجم293.18ملین ڈالر ہے جسمیں پاکستان کی ایران کو بر آمدات کا حجم 32.29ملین ڈالر اور درآمدات کا حجم 260.89ملین ڈالر ہے پیپر اور اس سے متعلق اشیاء، اجناس ،ٹیکسٹائل،پلاسٹک کی اشیاء ،سبزیاں اور پھل پاکستان ایران کو بر آمدکرتا ہے جبکہ پاکستا ن ایران سے الیکٹرک مشینری، معدنیات،تیل،نامیا تی کیمیکل،آئرن اور اسٹیل درآمد کرتا ہے۔انہوں نے Chahbaharبندرگاہ کی ڈویلپمنٹ کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں روابط بڑھانے کیلئے اس بندرگاہ کو گو ا در بندرگاہ کی Sister کا کردار کرنا چائیے۔انہوں نے مزید کہاکہ دونو ں ممالک کو تجا ر تی تعلقات بڑھانے کیلئے بینکنگ چینلزکھولنے چا ئیے اس کے علاوہ نمائشوں اور تجا ر تی میلوں کا انعقا دبھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ کاروبا ری روابط قائم ہوں۔انہوں نے مزید وضاحت کر تے ہوئے کہا ایران پہلا ملک تھا جس نے پاکستان کو ایک خو دمختار ملک کی حیثیت سے1947میں تسلیم کیا اور اس وقت سے لے کر آج تک پاکستان کے ساتھ ایران کے تعلقات بہت اچھے اور منفرد ہیں۔انہوں نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے پربات چیت کر تے ہوئے کہا پاکستان جلد سے جلد اپنے حصے کی پائپ لائن تعمیر کرے کیونکہ ایران پہلے ہی پاکستان ایران بارڈر تک پائپ لائن بچھا چکا ہے اس کے علاوہ پاکستان کو چا ئیے کہ وہ ایران پاکستان گیس لائن منصوبے کو سی پیک سے منسلک کرے اور پاکستان کے ذریعے چین کوایرانی گیس فراہم کرے تاکہ پاکستان عالمی سطح پر تجارت اور توانائی کامرکز بنے۔

مہر عالم خان
قائم مقام سیکریٹری جنرل