Press Release

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی نے ڈپلو مٹس کے ساتھ ویژن 2025 CPEC کے تنا ظر میں انٹر ایکٹیو سیشن کا اہتمام کیا ۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی نے ڈپلو مٹس کے ساتھ ویژن 2025 CPEC کے تنا ظر میں انٹر ایکٹیو سیشن کا اہتمام کیا ۔کرا چی ( 04-10-2016) ایف پی سی سی آئی کی اسٹینڈ نگ کمیٹی برا ئے ڈپلو میٹک آفیئر ز کے چیئر مین اشتیاق بیگ نے مختلف ممالک کے سفارتکا روں کے ساتھ ایک انٹر ایکٹیو سیشن کا اہتمام فیڈریشن ہا ؤ س میں کر اچی میں کیا ۔ اس سیشن کا مقصد پاکستان کے ویژن 2025 کو CPEC کے تنا ظر میں ڈسکس کر نا تھا ۔ اس سیشن میں سو ئز ر لینڈ ، بنگلادیش ، ملا ئیشیا ، انڈونیشیا ، تا جکستان، روس ، افغا نستان، ایران، جا پان، فرا نس اور دو سرے ممالک کے کو نصل جنرل اور ٹر یڈ نما ئندگا ن نے شر کت کی ۔ ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نا ئب صدر شیخ خالد تواب نے غیر ملکی سفارتکا روں کا استقبال کر تے ہو ئے مختصراً طو ر پر ایف پی سی سی آئی کی ملکی اور غیر ملکی سطح پر سر گر میوں اور کردار جیسا کہ ECO-CCI, SAARC ، کا سی ، اسلامک چیمبر ، D-8چیمبر ، GSP ڈسک ، کو رپوریٹ سو شل سیکٹر سے متعلق آگاہ کیا۔ انہوں نے دو سر ے ممالک کے ساتھ با ہمی تجا رت کی تو سیع پر بھی زور دیا اور کہاکہ تجا رت اقتصادی تر قی کے لیے انجن کی حیثیت رکھتا ہے اور تجا رت کے بغیر علاقائی سالمیت اور اقتصادی را بطے ممکن نہیں ۔ انہوں نے نما ئشو ں اور تجا رتی میلو ں کے با قا عدہ انعقاد اور تجا رتی وفود کے تبا دلے کی تجا ویز بھی پیش کیں تا کہ دو طر فہ تعلقات پاکستان اور دو سرے ممالک کے در میان بڑ ھیں ۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے در میان تعلقا ت کی وضا حت کر تے ہو ئے کہاکہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور کسی بھی ملک کے ساتھ جا رحیت کا ارادہ نہیں رکھتا ۔ تا ہم حال ہی میں جنگ جیسی صورتحال بھارت نے پاک بھارت با رڈر پر پیدا کی گئی ہے ۔ اور ساتھ ساتھ سند ھ طاس معا ہدے کو بھی تو ڑنے کی دھمکی پاکستان کو دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور مسائل اور تنا زعا ت مذاکرات کر ذریعے خو ش اسلو بی سے حل ہو نے چاہیے ۔ شیخ خالد تواب نے مز ید کہاکہ CPECایک بڑا منصوبہ ہے جو کہ گوادر کو کا شغر سے منسلک کر ے گا جسکا فا ئدہ پو رے خطے کو ہو گا جو کہ تر قی اور خو شحالی لا ئے گا خطے میں ۔ اس موقع پر چیف ایگز یکٹو TDAP ایس ایم منیر نے مختصر اًطو ر پر پاکستان کی تجا رت اور سر مایہ کا ر ی کے مواقع کی وضا حت کی ۔ ایس ایم منیر نے کہاکہ پاکستان دو سر ے ممالک کے ساتھ اقتصادی تعلقا ت کو فر وغ دینے میں TDAPکے کردار اور سر گر میوں سے بھی آگاہ کیا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ضر ب عضب اور کرا چی آپر یشن سے پاکستان میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہو ئی ہے ۔ چیئرمین ایف پی سی سی آئی اسٹینڈنگ کمیٹی برآئے ڈپلو میٹک آفیئر ز مرزا اشتیاق بیگ نے پاکستان کو در پیش معا شی ، سماجی ، اقتصادی ، سیکیورٹی اور گو رننس جیسے چیلنجز کے با رے میں آگاہ کیا۔ اشتیاق بیگ نے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہو ئے کہاکہ کئی سالو ں میں پاکستان کی شر ح نمو تین سے چار فیصد سے بھی کم رہی ہے جبکہ دو سر ے ممالک جیسا کہ بنگلہ دیش ، چین ، بھارت، جنوبی کو ریا اور سر ی لنکا کی معیشت کی شر ح چھ سے نو فیصد تک رہی ہیں ۔ انہوں نے مو جو دہ حکومت کی جانب سے معاشی منصوبہ بند ی کی روایت کو بحال کر نے اور ویژن 2025کو پیش کر نے کے بارے میں آگاہ کیا۔ اشتیاق بیگ نے مزید کہاکہ اس ویژن کے مقاصد اور اہداف سے آگاہ کر تے ہو ئے تجویز کیاکہ پاکستان کی معا شی نمو مو جو دہ سطح سے 9فیصد تک بڑ ھنی چا ئیے ۔ انہوں نے بر�آمدات کو 25بلین ڈالر سے 150بلین ڈالر تک بڑ ھنے کی تجو یز دی اس کے علاوہ بیر ونی سر مایہ کا ری کو 600ملین ڈالر سے 15بلین ڈالر تک بڑھنے کی تجا ویز پیش کیں اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی 9.8فیصد سے 18فیصد تک تجو یز کیا ۔ انہوں نے مزید Ease of Doing Business کو بہتر کر نے ، غر بت میں کمی اور تعلیم اور صحت کی سہو لیا ت کو بہتر بنا نے کا مشو رہ بھی دیا ۔ اس میٹنگ میں فیڈریشن کے نائب صدور حنیف گو ہر ، ارشد فاروق، ذولفقا ر علی شیخ کے علاوہ زبیر طفیل ، سینٹر عبدلحسیب خا ن ، عبدالسمیع خان ، گلزار فیروز ، شکیل احمد ڈھینگرز،ملک خدابخش ، محتابدین چاؤلہاور دیگر ممبرا ن نے شر کت کی۔ ملا قات میں ڈاکٹر مر زا اختیار بیگ جو کہ ایف پی سی سی آئی کی سی پیک کمیٹی کے ممبر بھی ہیں نے پاکستان کی معیشت کی بحالی اور تر قی میں CPECکی اہمیت کو واضح کیا۔ اختیار بیگ نے کہاکہ اس منصو بے کہ اہم جز جیسا کہ انفرا سٹر کچر ، انر جی ، صنعتی منصو بو ں پر کا میابی سے عمل دارآمد کر نے سے پاکستان کی عوام کی آمدنی میں اضا فہ ہو گا اور معیار زند گی بہتر کر نے میں مدد ملے گی۔ یہ منصوبہ نہ صر ف چین سے سر مایا کاری کو فر وغ دیگا بلکہ دنیا کے دو سرے مما لک کو بھی سر ما یہ کا ری کر نے کے لیے متواجہ کر ے گا ۔ تمام کو نصل جنر لز نے پاکستان کی صلا حیتو ں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور اس با ت پر اتفاق کیا کہ سی پیک سے منسلک انر جی اور انفرا سٹر کچر کے منصو بے اور گوادر پو رٹ پاکستان کی اقتصا دی تر قی میں اہم کردار ادا کر ے گی ۔ انہوں نے ہما ری حکومت اور فیڈریشن کو بیر ون ملک پاکستان کا تا ثر تندیل کرنے کیلیے مز ید کو ششو ں کا کہا۔ انہوں نے تجو یز پیش کی کہ اس طر ح اہم اقتصا دی مسائل پر با قا عدگی سے اجلاس منقعد ہو نے چا ہیے ۔