Press Release

پاکستا ن اور انڈو نیشیا مسلم دنیا کی سب سے زیا دہ آبا دی والے ممالک ہیں جو کہ

مورخہ: ۲۰۱۶۔۹۔۲۹ - پاکستا ن اور انڈو نیشیا مسلم دنیا کی سب سے زیا دہ آبا دی والے ممالک ہیں جو کہ مسلم دنیا کی25فیصد آبا دی پر مشتمل ہیں یہ بات شیخ خا لد تواب ،سینےئر نائب صدرایف پی سی سی آئی نے انڈو نیشیا کے سفیر IWAN SUYUDHIE AMRIاور کو نسل جنرل ہا دی سنتو شو سے ملاقات کے دوران کہی جو فیڈریشن ہاؤ س میں تشریف لائے تھے تاکہ انڈونیشیا کے تجا ر تی مشن اور پاکستان کی کا ر وبا ری بر ا د ری کے درمیان تعلقات استوار ہوں اور دونوں ممالک کی با ہمی تجا ر ت بڑھے اور اقتصادی تعلقات میں اضا فہ ہو۔
شیخ خالد تواب نے انڈونیشیا کے سفیر اور کونسل جنرل کو ایف پی سی سی آئی کی سر گر میوں اور پاکستان کی اقتصادی تر قی میں ایف پی سی سی آئی کے کر دار کے متعلق آگا ہ کیا ۔انہوں نے تجو یز دی کہ وفود کے با قا عدگی سے تبا دلے ،نما ئشوں کا انعقاد اور تجا رتی میلوں میں شرکت سے ہم تعلقات کو بڑھا سکتے ہیں اس کے علاوہ انہوں نے بزنس کو نسل کی ACTIVATIONاوراسکی میٹنگ کے انعقاد( پاکستان یا انڈونیشیا) میں پر بھی زوردیا اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انڈونیشیاکو برآمد ات جو کہ2003میں47ملین ڈالر تھی اب140ملین ڈالر ہوچکی ہیں جبکہ درآمدات جو کہ 2003میں266ملین ڈالر تھی اب2.04بلین ڈالر ہو چکی ہیں، پاکستان انڈونیشیا کو کا ٹن ،چا ول اور کارن بر آمد کرتا ہے جبکہ پام آئل ،اور میوہ جات درآمد کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تر جیحی تجا ر تی معاہدہ (PTA)فروری2012میں دستخط ہواتھا اور با ضا بطہ طو رپرستمبر2013سے اس پر عمل درآمد ہواتھااس معاہدے میں زائد فوائد کینو اور پام آئل کودےئے گئے جسکی وجہ سے پاکستان انڈونیشیا سے پام آئل کا بڑا درآمد کنندگان بن چکا ہے انہوں نے زور دیا کہ ہمیں چا ہیے کہ اب ہم(PTA)سے(FTA)کی جانب بڑھیں تاکہ تجا رتی رکاوٹیں کم سے کم ہوں۔
MR.IWAN SUYUDHIE AMRIانڈونیشیا کے سفیر نے پاکستان کے عوام کی مہمان نوازی اور سخاوت کا شکریہ ادا کیا اور کہا پاکستان میں سیفٹی اور سیکیورٹی کا ماحول بہت بہتر ہو چکا ہے انہوں نے اجلاس کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے مابین دفاعی،تجا ر تی ،ذرائع ابلاغ،میڈیا اور دو سرے بہت سے معاملات پر دو طر فہ تعاون پر روشنی ڈالی اور پاکستان بزنس کمیو نٹی کے لو گو ں کو انڈونیشیا کی ٹریڈ ایکسپو میں مدعو کیا جوکہ اکتوبر 12سے 16اکتوبر کے درمیان جکارتہ میں منعقد ہو گی۔انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا سب سے زیا دہ مسلم آبادی والا ملک ہے جبکہ پاکستان دوسرا بڑا مسلم آباد ی والا ملک ہے جو کہ اس بات کی عکا سی کر تا ہے کہ دونو ں ممالک مل کر حلال اشیا ء کی دوسرے ممالک کو برآمدکریں انہوں نے مزید کہا کہ دونو ں ممالک کے درمیان بہت سے معاہدوں پر دستخط ہوچکے ہیں جن پراب نفاذ العمل کرنے کی کو شش کررہے ہیں۔
جنا ب ہا دی سنتو شو انڈونیشیا کے کو نسل جنرل جوکہ اس موقع پر موجو د تھے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈو نیشیا کے درمیان باہمی ثقا فتی تعلقات اور تجا ر تی تعلقات کی ایک بڑی
تا ریخ ہے جو کہ1947سے شروع ہوئی ہے انہوں نے کہادونو ں ممالک کی حکومتوں کے درمیان تعلقات تو بہت مضبوط ہیں لیکن تجا رتی تعلقات کو بہتر کرنے کیلئے لوگو ں کے درمیان تعلقات کی ضروت ہے پاکستان اور اندونیشیا کے درمیان تجا ر ت اور کاروبا ر کے بہت سے مواقع ہیں جن سے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کو فا ئدہ اٹھا نے کی ضرورت ہے۔
ملاقات کے دوران شرکا ء نے چا ول ،کینو ،پام آئل اور دوسری بہت سی اشیا ء کی تجا رت کے امکانات پر روشنی ڈالی اور اندونیشیا کے تجا ر تی مشن سے التجا کی کہ وہ پاکستانی تا جر و ں کی درخواست اپنی حکومت کو پہنچا ئیں تا کہ پاکستان کو کینو کی بر آمد کی اجازت دسمبر سے دی جائے کیو نکہ کینو ایکPerishableچیز ہے اور بر آمد میں تا خیر سے اسکے خراب ہو نے کا خدشہ ہے جس سے پاکستان کو نقصان ہوگا۔اسکے علاوہ انڈو نیشیا چا ول کی درآمد کیلئے پاکستان کی بزنس کمیو نٹی کے لوگوں سے رابطہ کرنے ٹریڈ کار پو یشن آف پاکستان سے رابطہ کرنے کے بجائے کیو نکہ چا ول کی بر آمد نجی شعبہ کر تاہے اس کے علاوہ انڈونیشیا کی حکومت کو چا ہیے کہ وہ PTA کیمطابق 15 فیصد کیRebateجو کہ پاکستان کو پام آئل بر آمد کر تے وقت لیتا ہے اسے ختم کر دے کیونکہ پاکستان پہلے ہی انڈونیشیا کو تمام اشیا ء کی بر آمد پر Rebateختم کر چکاہے۔ اس اجلاس میں پاکستان کے نائب صدور ارشد فارق اور ذولفقار شیخ اوربہت سے دوسرے کاروبا ری حضرات نے بھی شرکت کی۔
مہر عالم خان