Press Release

طو یل عر صے سے زیر التوا جغر افیا ئی علامتی تحفظ بل پر تشو یش کا اظہار ۔ شیخ خالد تواب ، سنیئر نا ئب صدر ایف پی سی سی آئی

کرا چی( 16-09-2016) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے سنیئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے جغر افیا ئی علامتی تحفظ قا نو ن کے مسو دے پر شد ید تشو یش کا اظہار کیا جو کہ 2001میں تیار کیا گیا تھا اور ابھی تک زیر التوا ہے انہوں نے کہاکہ جغرافیائی علا متی تحفظ بل کی عد م مو جد گی کی وجہ سے پاکستان کی اشیا ء کو بین الاقوامی ما رکیٹ میں اچھی قیمت با زیا فت نہیں اور پاکستان کی معیشت کو سالانہ لا کھو ں ڈالر کا نقصان ہو تا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہما رے پڑ وسی ملک بھا رت نے 2003میں اس قانو ن کو نا فذ کیا اور اس کے بعد سے اب تک 220اشیا ء کو انٹر نیشنل ما رکیٹ میں تحفظ دے سکا جبکہ وسطی اور جنوبی امریکہ کے ممالک بھی اب تک اس قا نون کے ذریعے اپنی 400اشیا ء کو تحٖفظ فرا ہم کر سکیں ہے اسی طر ح افر یقی ممالک بھی اب تک اپنی ایک پر وڈکٹ کو رجسٹر ڈ کرواسکیں گے ۔ انہوں نے مز ید زور دیتے ہو ئے کہاکہ پاکستان کو اس وقت بین الا قوامی ما رکیٹ میں انڈیا سے سخت مقابلے کا سامنا ہے کیونکہ دو نو ں ممالک کی تہذیب اور تا ریخ اور پیداوار ی طر یقے ایک جیسے ہیں ۔ ما ضی میں پاکستان اسی قانو ن کے نہ ہونے کی وجہ عا لمی سطح پر اپنی با سمتی چا ول کی ما رکیٹ بھار ت کی وجہ سے کھو چکا ہے اور بھا رت نے اس قا نو ن کی وجہ سے نہ صر ف اپنی ما رکیٹ رسائی کو بڑھایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی با سمتی چا ول کی رسائی بھی کم کر دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قدرت نے پاکستان کو متنوع جغر افیہ ، آب وہوا، مٹی، ثقا فت ، تہذیب اور بہت سی چیزوں سے نوازا ہے اور ہماری ایکر یکلچر اور مینو فیکچر نگ کے شعبے سے متعلق بہت سی اشیا ء اس چیز کو ظاہر کر تی ہیں کہ ہم انہیں جغر افیا ئی علامتی بل کے ذریعے تحفظ دیں جیسا کہ سند ھر ی آم ، کینو ، سبز الا ئچی ، خیر پو ر کی کھجو ریں ، ہقتر ہ کی خو با نی ، ملتا نی مٹی ، ہالا کی دستکا ریاں ، خا نپو ر کے سنگتر ے اور ما لٹے ، قصوری میتھی ، جنیوٹ کا فر نیچر ، ساہیو ال کی گا ئے اور بھینس ، سند ھی اجر ک ٹو پی شکا ر پو ر کا چار ، پشاوری چپلی کباب ، پشاوری آئسکریم ، کشمیر ی پشمینا (شالیں ) وزیر آباد کے چاقو وغیرہ ایسی اشیا ء ہیں جنہیں ہم عالمی سطح پر و فیکٹ (تحفظ ) دے سکتے ہیں اور جو ہماری اقتصادی تر قی با لخصو ص ادیہی علاقو ں کی تر قی اور بر�آمدات بڑھا نے اور غربت کے خاتمے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے مزید وضا حت کر تے ہو ئے کہاکہ جغر افیا ئی علا مت Intellectual Property Right کی ایک قسم ہے ۔ جو کہ اشیا ء کو پیداوار کے علاقے ، اسکے معیا ر اور شہرت سے منسو ب کر تی ہے اور اسکی بر آمدات کو مستحکم کر تی ہے اسکی اہمیت اس کو تجا رت سے متعلق WTOکے معاہدےIntellectual Property Right of Trade Related Aspects میں شامل کر نے سے بڑ ھ گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ ما رکیٹنگ کے ایک اہم جُز ہو نے اور انٹر نیشنل ما رکیٹ میں اچھی قیمت حاصل کر نے کے لیے یہ قانو ن بہت اہم ہے اور ہمیں اس بینچ ما رک کو برقرار رکھنے اور اسکی خصو صیا ت اور خدوخال کو جا ری رکھنے کی کو شش کر نی چا ئیے ۔ انہوں نے مز ید کہاکہ متعلقہ وفا قی اور صو با ئی وزارتیں کی مشا ورت سے حکومت جلد اس قانو ن کو نا فذ کر ے اور اس پر عمل در آمدکر ے اس کے ساتھ ساتھ حکومت تا جروں ، صنتکا روں اور کسانو ں کی آگاہی کے لیے اس قا نو ن سے متعلق پروگرام کا بھی انعقا د کر ئے تا کہ بین الا قوامی ما رکیٹ میں پاکستان کی اشیا ء کو تحفظ ملے اور پاکستان کی بر�آمدت کو فر وغ دینے میں مدد ملے ۔