Press Release

ایف پی سی سی آئی کے سنیئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے وزیر خزانہ اسحق ڈار کے اسلامی بینکاری کے فروغ کے اقدامات کو سراہا ۔

کرا چی ( 12-09-2016) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے سنیئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے وزیر خزانہ اسحق ڈار کے فیصلے کو سراہا جو انہوں نے اسٹیر نگ کمیٹی کی پیش کر دہ سفارشات جو کہ اسلامی بینکنگ کو فر وغ کر نے کے لیے پیش کی گئی ہیں کو نفاذ کر نے کیلیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی بینکاری کی تو سیع اور فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ یہ رسک شیئر نگ اور Asset-Backed نو عیت کی خصو صیا ت رکھتی ہے اور عالمی مالیاتی بحران کی مدت میں بھی یہ غیر متا ثر کن رہی ہے ۔ انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اقدامات کو بھی سر اہا جو انہو ں نے اسلامی بینکا ری کے لیے کیئے جیسا کہ سینٹر آف ایکسی لینس کا قیا م ، اسلا مک شیئر انڈکس کا اجراء اور اسلامی بینکا ری کے ما تحت اداروں کے قیام کے لیے پالیسی کی تشکیل وغیرہ اہم ہیں ۔ خالد تواب نے مزید وضاحت کر تے ہو ئے کہاکہ اسلامک بینکا ری عالمی ما لیاتی ما رکیٹ میں ایک ابھرتی ہو ئی فیلڈ ہے اور وقت نے بھی ثا بت کر دیا ہے کہ یہ اس وقت پو ری دنیا میں بہت تیز ی سے پھیل رہی ہے اور اس میں بڑھنے کی مز ید صلا حیتیں مو جو د ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان 95فیصد سے زائد مسلم آبادی والا ملک ہے جہا ں یہ آئینی ذمہ داری بھی ہے کہ ہما ری اقتصادی نظام غیر سو دی ہو ۔ اسلامی بینکا ری سے تر قی کے وسیع موقع مو جو دہیں اگر ہم ڈپا زٹس کی تفصیلی تجز یے کے بعد اسلامی طر یقو ں سے مطابق وہاں سر مایہ کاری کر یں جہاں منا فع کی شر ح عام تجارتی بینکو ں کے مقابلے میں زیا دہ ہے کیونکہ آج کل اسلامی بینکا ری میں منا فع کی شر ح روایتی بینکو ں کے مقابلے میں کم ہے ۔ انہوں نے مز ید کہاکہ اعداد وشما ر کا حوالہ دیتے ہو ئے کہاکہ وہ عالمی سطح ر پاکستان اسلامی بینکا ری کو فرغ دینے میں دسویں نمبر پر ہے ۔ اس وقت پاکستان میں کل اسلا می بینکا ری کے 22مالیاتی ادارے کام کر رہے ہیں۔ جن میں 6تو مکمل طو ر پر اسلامک بینکس ہیں جبکہ 16کمر شل بینکو ں نے اسلامی بینکا ری کی مختلف شاخیں کھو لی ہو ئی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی بینک کے اثا ثو ں کا حجم کل بینکو ں کے اثا ثو ں کا 11.4فیصد جبکہ اسلامی بینک کے ڈپازٹس کل بینکو ں کے ڈپازٹس کے 13.2فیصد ہیں جو کہ یہ ظاہر کر تے ہیں کہ اسلا می بینکا ری کی حو صلہ افزائی اور کا رکر دگی بہتر بنا نے کے لیے خصو صی توجہ کی ضرورت ہے ۔ خالد تواب نے مز ید کہاکہ اسلام نے سو دی نظا م پر پا بند ی عائد کی ہو ئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اسلامی نظام میں سر مایہ (Cost Less) ہے بلکہ اسلام سر مایہ کو منا فع شیئر نگ کی بنیا د پر استعمال کر نے کی تر غیب دیتا ہے ۔ اسلام سر مائے پیداواری عنصر کے طو ر پر تسلیم کر تا ہے لیکن اس با ت کی اجا زت نہیں دیتا کہ سو د کی شکل میں پہلے سے ہی پیداواری سر پلس کو مقر ر کیا جا ئے ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان میں جو غیر ملکی بینکس مو جو د ہیں انہوں نے بھی اسلامی بینکا ری کی ونڈوز بنا لی ہیں جوکہ دو سرے کمر شل بینکس کے ساتھ مقابلہ کی فضا قائم کیئے ہو ئے ہیں اس طر ح غیر ملکی بینکس نے یہ پر یکٹس یو رپی ممالک میں بھی شروع کر دی ہے جہاں ایک تہائی آبا دی مسلمانو ں کی ہے اور وہ اسلامی بینکا ری میں سر مایہ کا ری کر نا چا ہتے ہیں ۔