Press Release

وزیر اعظم سر مایہ کا روں کے اعتماد کو بحال کریں ۔ شیخ خالد تواب ، سنیئر نائب صدر ایف پی سی سی آئی

کرا چی ( 09-09-2016) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے سنیئر نا ئب صدر شیخ خالد توب نے سر مایہ کا ری کی کمی پر شد ید تشو یش کا اظہار کر تے ہو ئے کہاکہ پاکستان میں ملکی سر مایہ کا ری جی ڈی پی کے تنا سب سے صر ف 15.2فیصد رہ گئی ہے جو کہ 2007میں 22.5فیصد تھی جبکہ غیر ملکی سر مایہ کا ری اس سال صر ف 1.5ار ب ڈالر رہی ہے جو کہ 2008میں 5.4ارب ڈالر تھی ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان میں غیر ملکی سر مایہ کا ری بڑ ھنی چا ہیے تھی سی پیک سے ملحقہ منصو بو ں میں دو سرے ممالک سے بھی سر مایہ کا ری آنی چا ہیے تھی ۔سی پیک جو کہ ایک بڑا پر وجیکٹ ہے جس سے پاکستان میں چین سے صر ف 46ارب ڈالر کی سر مایہ کا ری آئے گی اور اس سے پاکستان کے روابط مشر قی وسطی کے ممالک یو رپی یو نین اور وسطی ایشیا کے ممالک سے بڑ ھیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ سر مایہ کا ری سے متعلقہ حکومتی ذمہ دار ایجنسیا ں اپنے اہداف کو حاصل کر نے اور سر مایہ کا ری سے متعلق مواقع ملکی اور غیر ملکی سطح پر ما رکیٹنگ کر نے میں نہ کام رہی ہیں با وجو د اس کے کہ پاکستان کی سر مایہ کا ری کی پالیسی انتہا ئی دوستانہ اور آزادانہ ہے جو کہ سر مایہ کا روں کو مختلف قسم کی مراعات دینے کے علاوہ اس با ت کی پیشکش کر تی ہے کہ سر مایہ کا راپنے نفع اپنے ملک میں واپس لے جا ئیں اس وقت پاکستان میں امن وامان کی صورتحال کا فی بہتر ہو چکی ہے رینجرز اور پاکستان آرمی کے ضر ب عضب کے کا میاب آپر یشن کے بعد ۔ خالد تواب نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے مزید التجا کی کہ وہ سر مایہ کا روں کے اعتماد کو بحال کر یں اور اصلا حی اقدامات کر یں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان دنیا میں نمک کا سب سے بڑ ا پیداکنند گا ن ہے اس کے علاوہ دنیا کا دوسرا بڑا گو شت کا پیدا کنند گا ن اور پانچواں بڑا تا نبے کے ذخا ئر رکھنے والا اور چو تھا بڑا کا ٹن ، آم اور گنا پیدا کر نے والا اور تیسرا بڑا کا ٹن استعمال کر نے والا اور گیا رواں بڑا گندم پیدا کر نے والا اور چھٹا بڑا تا زہ دودھ پیدا کر نے ولا ملک ہے جو یہ ظاہر کر تا ہے کہ پاکستان مقامی طو ر پر دستیا ب خام مال کے سر ما یہ کا ری کے وسیع امکا نا ت موجو د ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ انر جی اور پا ور سیکٹر ، کا ن کنی ، انفرا سٹر کچر ، آٹو مو با ئل ، ٹیلی کمونیکشن ، ویلیو ایڈ ڈ، ٹیکسٹا ئل ، چمڑ ے ، سر جیکل اور ادویا ت ، فو ڈ پرو سسینگ ، بینکنگ ، فنا نس اور انجینئر نگ سیکٹر ز میں جو ائنٹ سر مایہ کا ری کے وسیع مواقع مو جو دہیں ۔ خا لد تواب نے مز ید اس بات پر زور دیا کہ وفاقی اور صو بائی سر مایہ کا ری بو رڈ ز کے در میان کو آرڈنیشن کی ضرورت ہے جیسا کہ دو نو ں ایک جیسا کا م کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مز ید کہاکہ صو بائی سر مایہ کا ری کے ادارے اپنے صو بے میں سر مایہ کا ری بڑ ھانے پر توجہ دیں ۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مشننز جو کہ دو سر ے ممالک میں اپنی خدما ت سر انجا م دے رہے ہیں انہیں بھی چا ہیے کہ پاکستان کے سر مایہ کا ری کے منصو بو ں کے مواقعوں کو اجا گر کر یں اور سر ما یہ کا ری سے متعلق معلو ما ت دو سر ے ممالک کی سر مایہ کا ری کے اداروں کو فر اہم کر یں ۔