Press Release

وفاق ایوانہا ئے تجا رت وصنعت پاکستان

کرا چی ( 29ستمبر 2018 ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی ریسرچ و پالیسی ڈویژ ن نے ایک قو می SMEsپالسیی پر راؤنڈ ٹیبل کا نفر نس ہیڈ آفس کراچی سمیت کیپٹل آفس اسلا م آباد اور ریجنل آفس لا ہو ر میں ویڈ یو لنک کے ذریعے منعقد ہو ئی ۔ اس راؤ نڈ ٹیبل کا نفر نس کا بنیا دی مقا صد ایس ایم ایز سے متعلق اہم معاملا ت اور پاکستان میں SMEsکی اہمیت کو اُجا گر کر نا ہے ۔ اس کا نفرنس میں شر کت کر نے والو ں ایف پی سی سی آئی کے قا ئمقام صدر جاوید اقبا ل چو ہدری، سا رک چیمبر آف کامر س کے نائب صدر افتخار علی ملک کے علاوہ ایف پی سی سی آئی کی نائب صد ر سیدہ بانو، صدر اسمال چیمبرز آف کامرس و انڈ سٹری فیصل آباد ، اسلام آبد ، گلگت ، جھنگ ،کو ئٹہ و پشاور کے علاوہ سمیڈا کے نما ئندگا ن ، SMEبینک کے اعلیٰ آفیسران کیپٹل ڈپلومنٹ فورم کے نما ئند ہ ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان ، ایسو سی ایشن مینجمنٹ ڈپلو منٹ انسٹی ٹیوٹ تمام اسٹاک ہو لڈرز ، تعلیمی اداروں کے نما ئندگان بھی مو جو د تھے۔ ایف پی سی سی آئی کے قائم مقام صدر جا وید اقبا ل چو ہدری SMEs سے متعلق تمام اہم معا ملا ت سر ما یہ کاری ، کا روباری لا گت کی بڑھتی ہو ئی قیمت ، کم ویلیو ایڈ یشن ، پاکستان کے مختلف شہروں میں ٹیکس سسٹم کا متضاد نظام ، ٹیکنالو جیاں کا ایڈ وانس منٹ ، پیچیدہ ٹیکس سسٹم وغیر ہ کو اجا گر کیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں تر بیت سے متعلق ، انٹر نیشنل نما ئشو ں میں شر کت ، کا روباری اداروں میں آپس میں راوبط اور ڈسٹر کٹ لیو ل پر SMEsزون قا ئم کیئے جا ئیں ۔ سا ر ک کے نا ئب صد ر افتخا ر علی ملک نے اس موقع پر کہاکہ تمام بڑ ے صنعت کا رSMEsکی پیداور ہیں اور SMEsکی تر قی دیئے بغیر ہما را ملک تر قی کی راہ پر چل ہی نہیں سکتا ۔ انہوں نے کو د اپنے صنعتی ادارہ کا ذکر کیا کہ کس طر ح میرا ادارہ SMEs سے ایک بڑا انڈسٹر یل یو نٹ بنا ۔ انہوں نے نے کہاکہ پر تعیش امپورٹ کو محدود کیا جا ئے SMEs کے ادارہ کو گیس اور بجلی رعا یتی قیمتو ں پر دی جا ئے ، نو جوان اداروں کی ہمت بڑھا ئی جا ئے اسما ل ورکشا پ کا قیا م ہو نا چا ہیے ، اسمال انڈ سٹر یل ڈویلپمنٹ کمپلیکس کا قیام اور زراعت سے متعلق ورکشا پ اور زراعت میں فی ایکٹر پیداوار میں اضا فہ سے ہیSMEsکے علاوہ ملک تر قی کی راہ پر چل پڑے گا ۔ شفیق انجم نائب صدر ایف پی سی سی آئی نے اسمال چیمبر زآف کامرس و انڈ سٹر ی سے متعلق تمام اہم معاملا ت کو اجا گر کر تے ہو ئے کہاکہ کمر شل بینک کا ایس ایم ای سے متعلق کا روبار پر سود کا اعلیٰ ریٹ کا ہو نا اور ایس ایم ایز سے متعلق تیکسو ں کی بھر ما ر ، اسمگلنگ ، اسٹو ریج کی جگہ کی قلت ، سر مایہ کاری کی کمی شا مل ہیں ، انہوں نے سا ؤ تھ ایشیا ء کے ممالک مثلاً تا ئیوان ، سنگا پو ر ، جا پا ن، ویت نا م ، ملا شیا ء کے جیسے ممالک کی معا شی تر قی اسمال میڈیم انٹر پرا ئزز کاروبار کی مرھون منٹ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ایم ایز ۔ ما ئیکرو فنانس بینک اور سمیڈ اکو ایس ایم ایمز کے کا روبار کے فر وغ میں اہم کردارادا کر نا چا ہیے اور سمیڈ کو ہر سمت سے ہر مسئلہ کو اسٹیڈی کر نا چا ہے اور اپنے ویب سا ئٹ پر لا نا چا ہیے ۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر سعید با نو نے خواتین کا روباری اداروں کیااہمیت کو اجا گر کر تے ہو ئے کہاکہ یہ ادارے ما ئیکر وبز نس ما حول میں کام کر رہے ہیں اور سر مایہ کاری کی کمی اور مہا رت کی کمی مسا ئل کا شکا ر ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ویکشینل اسنٹی ٹیوٹ اور بز نس ڈویلپمنٹ سنٹر اور ان کے وجو د سے متعلق مسائل کا حل بھی ضروری ہے۔ رحمت اللہ جا وید نے کہاکہ ایس ایم یمز وہ ادارہ ہے جو ایس ایم ایز کے فروغ کیلئے کا م کرتی ہے اور ابھی تک یہ ادارہ ایس ایم ایز کے ساتھ کو ئی واضح پالیسی نہیں بنا سکا ۔ سمیڈ ا کو چا ہیے کہ پرائیوٹ سیکٹر سے کچھ ما ہرین کو لیکر بو رڈ آف ڈائر یکٹر کی میٹنگ پا بند ی سے ہو نی چا ہیے ۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ بغیر سر مایہ مہیا اور دیگر سہو لتیں دیئے بغیر ایس ایم ایزکو مو ڈرن طر یقے پر نہیں چلا یا نہیں جا سکتا اور اسے بڑھا یا نہیں جا سکتا ۔ انہوں نے کہاکہ ایس ایم ایز کی برا نچیں تمام صو بو ں میں ہو نی چا ہیے ۔ ایس ایم ایز کیلئے ریسر چ سینٹر اور ٹیکنالو جی اور مہارت سے بھر ے ہو ئے پروگرام مر حلہ وار ہو نے چا ہیے ۔ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہاکہ ایس ایم ایز ایک پرو فیشنل اور برآمدبڑھاو انڈ سٹر ی ہے اور اسمال انڈ سٹر یز کو فروغ دینے والے مشورہ دیئے ۔ انہوں نے کہاکہ ایس ایم ایز پالیسی 2007پر اب تک صحیح عمل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایس ایم ایز کو ڈیٹا بھی مو جو د نہیں ہے ۔ آٹوموبائل انڈ سٹر ی کی مثال دیتے ہو ئے کہاکہ وینڈر انڈ سٹر ی کو لائیواسٹاک ، ڈیری ، فشری ، چمڑااور ٹیکسٹائل مشینر ی پا رٹس کو جو کہ چین سے امپورٹ ہو تے ہیں یہ پاکستان میں بناتے جا ئیں ۔ سیمڈ ا کے نما ئندگا ن نے ایس ایم ایز سے متعلق ایف پی سی سی آئی کی کو وششو ں کو سرا ہتے ہو ئے کہاکہ قو می اسٹینڈ نگ کمیٹی برا ئے ایس ایم ایز قا ئم کی جا ئے جس میں مختلف چیمبرز کے صدورں کو شامل کیا جا ئے تا کہ ایس ایم ایزسے متعلق پالیسی کو دوبو رہ نظر ثانی کیلئے پیش کیا جا ئے ۔ مز ید یہ کہ ہم Lumsسے متعلق معاشیات کے ماہرئین کو بھر تی کرکے ہر مسئلہ کو دیکھیں گے اور ایس ایم ایز سے متعلق تمام استا ک ہو لڈرز کے مسائل کو دیکھنا چا ہیے ۔ محمد اعظم جو ائنٹ ڈائر یکٹر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایس ایم ایز سے متعلقہ سر مایہ کاری کو اجا گر کیا SBP ایس ایم ایز کیلئے کمر شل بینکو ں کوایک ٹا رگٹ دیتی ہے جو 2016اور 2017میں پو رے ہو گئے ۔ SBPنے ایس ایم ایز سے متعلق پالیسی کو کئی دفعہ تبدیلی کے لیے کہاکہ اور ایک پالیسی پر زور دیا SBPنے کئی ایر یا کی نشا ند ہی کی جو اسما ل میڈیم انٹر پرائز کی کئی پالیسیوں مثلاًالیکٹر ک ، یو یٹیلیٹی سے متعلق جگہو ں کو بھی دیکھنا چا ہیے ۔ ایس ایم ایز سے متعلق سر مایہ رسک کی بناید پر دیا جا تا ہے جو 2فیصد تک ہو تا ہے جسے کمر شل بینک 4فیصد تک لے کر جا ری کر تی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلا مک فنڈ برا ئے ایس ایم ایز کا قیام ہو نا چا ہیے اور تمام اسٹاک ہو لڈرزکو زور دیتے ہو ئے کہا کہ حکومت کو ایس ایم ایز بینک کو ملک کے دور دراز علاقو ں کی طر ف لے جا ان چا ہیے صدر اسمال چیمبر ز�آف کامر س و انڈ سٹر ی فیصل آبا د ، اسلام آباد ، گلگت ، جھنگ ، کو ئٹہ پشاور کے نمائندو ں نے کہاکہ پاکستان بینک خطر ہ ہو نے کی وجہ سے ایس ایم ایز کے اداروں کو قر ضہ کم جا ری کر تے ہیں انہوں نے کہاکہ یو نیورسٹیوں میں ایس ایم ایز کی پرومو شن سینٹر وں کا قیام ، آگئی کا پیدا ہو نا اور SBPاور SMEبینکو ں کو ایکسپورٹ کرنے والی ایس ایم ایز کی مدد کرنی چا ہیے ۔ نما ئندہ گا ن نے ایس ایم ایز سے متعلق ما ربل ، کو ل ، منیگو، جیمز وجیولری ، لا ئیواسٹاک ، ھینڈی کرافٹ کی پیداواروں کو اچھی پیکنگ کے ساتھ ایکسپورٹ کے لیے پیش کرنی چا ہیے اور SMEکو FBRکے آڈٹ سے EXemptکرنا چا ہیے ۔



ڈاکٹر اقبال تھہیم
سیکر یٹری جنرل ایف پی سی سی آئی