Press Release

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈ سٹر یکرا چی ( 24-08-2016) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے سنیئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے کہاکہ گز شتہ چند بر سو ں میں ہمارے ملک اور خطہ میں کئی بڑی اوراہم تبدیلیا ں رونما ہو ئی ہیں جسکی وجہ سے ہما ری بحری گذرگاہو ں کی اہمیت میں اضا فے کے ساتھ ساتھ نئے چیلنج بھی پید ا ہو ئے ہیں ۔چنا نچہ ہمیں اپنی پورٹس کو بہت اہمیت دینا ہوگی اور ان کو بین الاقوامی معیار پر لانا ہو گا تا کہ ہم خطہ کے دوسرے ممالک کی پورٹس سے بھر پور مسا بقت کر سکیں۔ نقل و حمل کے بہتر ذرائع ملکی معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر تے ہیں جو کہ نہ صرف عالمی مسابقت میں مدد کر تے ہیں بلکہ اشیا ء کی تیز تر رسد و تر سیل کو بھی یقینی بناتے ہیں۔یہ بات انہوں نے سینیٹر میر حاصل خان بزنجو وفا قی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ سے فیڈریشن ہا ؤس میں ایک میٹنگ میں کہی ۔ اس موقع پراسد رفیق چا ندنہ ، ڈائر یکٹر جنر ل پو رٹس اینڈ شپنگ، شفقت جا وید، چیئر مین کرا چی پو رٹ ٹر سٹ وائس ایڈ مر ل، دوستین خان جمالدینی، چیئرمین گوادر پو رٹ اتھا رٹی، فیڈریشن کے نائب صدور فیصل جمال دشتی، حنیف گو ہر ، ارشد فاروق ، ذولفقا ر علی شیخ کے علاوہ ایف پی سی سی آئی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پورٹ،شپنگ کے چیئر مین طا رق حلیم، زبیر طفیل، وسیم وہرا ، کمال اے محمودی ،عبدالسمیع خان، گلزار فیروز شکیل احمد ڈھینگرا، رشید جان محمد اور دیگر بڑ ی تعداد میں تا جر برا دری نے شر کت کی ۔ خالد تواب نے کہا کہ ٹرانسپورٹ سیکٹر کا حصہ خالص ملکی پیداوار (GDP)میں تقریبا 11فیصد کے قریب اور ملکی سرمایہ کا ری میں17فیصد کے لگ بھگ ہے اسکے علاوہ یہ شعبہ 6فیصد روزگار کے مواقع بھی فراہم کر تا ہے ۔ عالمی سطح پر تیز رفتار نقل و حمل اور جدید مواصلات کی وجہ سے انسانی زندگی کے ہر پہلو ، بشمول تجارت، مینو فیکچر نگ ،تعلیم،تحقیق،تفریح و ثقافت اور دفاعی شعبو ں میں تبدیلی آ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج تمام ابھر تی ہوئی معیشتیں مضبو ط نقل و حمل اور مواصلاتی نظام کی اہمیت سے آگا ہ ہیں اور اسی لئے مضبو ط اور مو ثر مواصلاتی نظام کو اپنا رہی ہیں ۔ کیو نکہ نقل وحمل کے بیشتر ذرائع اشیاء کی درآمدات اور بر آمدات کو تیز رفتار بنانتے ہیں پاکستان کی تقریباََ1,100کلو میٹر طو یل سا حلی پٹی اور بحریہ عرب میں دو اہم بندرگا ہیں کر ا چی پورٹ ،پورٹ قاسم اور زیر تعمیر گوادر پورٹ نے چین پاک اقتصادی راہداری کی تعمیر کے پس منظر میں پاکستان کی اقتصادی پلیسی کونمایا ں کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پورٹس کے علاوہ سامان کی نقل و حمل اور ترسیل کیلئے دریا اور نہری گذرگاہوں کا وسیع نیٹ ورک دنیا بھر میں صدیوں سے استعمال ہو تا رہا ہے ۔اس نظام کی بدولت بڑے پیمانے پر نہ صرف فیول کی بچت حاصل کی جاسکتی ہے بلکہ اسکی امپورٹ میں کمی سے پاکستان کے زرمبادلہ پر بو جھ کو کم کرکے زرمبا دلہ بچایا جاسکتاہے۔ کیونکہ پاکستان ہر سال ایک خطیر رقم پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر خرچ کر تا ہے جبکہ دوسری طرف سامان کی نقل و حمل کیلئے آبی گذرگاہوں کے استعمال پاکستان ایک سازگار ماحو ل فراہم کر تا ہے ۔کیونکہ یہاں 30ہزار کلو میٹر طو یل Naviable Channelsہیں جن کے منا سب استعمال سے طو یل المدتی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ خا لد تواب نے کہاکہ پاکستان میں آبی گذرگاہو ں کے ذریعے تقریبا267بلین ٹن سامان کی منتقلی کی سہولت موجو د ہے۔ایک لیٹر فیول سے ایک ٹن وزن کے سامان کی منتقلی بذریعے آبی گذر گاہ 180کلو میٹر تک ہو تی ہے جبکہ اس کے خلاف اسی وزن کا سامان بذریعہ ٹرین صرف 75کلو میٹر اور بذریعہ روڈ صرف 25کلو میٹر تک لے جا یا سکتا ہے ۔اس موقع پر سینیٹر میر حاصل خان بزنجو وفا قی وزیر برائے پورٹس اینڈ شپنگ نے کہاکہ سی پیک سے کے انرجی مسائل ختم ہو جا ئنگے۔ اگلے ہفتے میں ہما ری منسٹر ی اپنی فیری پولیسی لا رہی ہیں جس کے تحت کرا چی سے مسقت ،جابھار سے دبئی تک آسان راسا ئی ہو گی جس سے انو سٹمنٹ بھی آئیگی ۔ وفا قی وزیر نے کہاکہ ہماری منسٹر ی اور تا جر برا دری مل کر کام کر سکتے ہے کہ آپ انوسٹمنٹ کر یں اور کام کر یں اور ہما ری منسٹر ی ایڈمنسٹر یشن چلا ئے۔ پچھلے تین سالو ں میں پاکستان میں بہت سی چیز یں بدلناشر وع ہو ئی ہے پہلے ہر طرف سو ائے دہشتگر دی کے علا وہ کو ئی چیز نہیں تھی اس کی مثل کرا چی آپ کے سامنے ہے کبھی سٹر یٹ جرا ئم تو کبھی دہشتگردی لیکن آج اللہ کے فضل کرم سے ضرب عضب اور رینجرز آپر یشن کے بعد ملک بھر میں امن وامان کی صورتحال بہتر ہو ئی ۔ انہو ں نے کہاکہ پو رٹ اینڈ شپنگ واحد منسٹر ی ہے جس کو تاجر برا دری چلاتی ہیں اس لیے ان کے مطالبات سنتے بھی ہے اور ان پر عملدرآمد بھی کر تے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ گوادر سے رٹوڈھرو روڈ بہت جلد مکمل ہو نے بعد گوادر پو رٹ کار آمد ہو جا ئے گا ۔ اس موقع پر تا جر برا دری نے مطا لبہ کیا کہ پا نچ دن ڈمیرج پیریڈ کو بڑھا کر 10دن یا کم از کم 7دن تک کیے جا ئیں تا کہ کا رگو بہتر طر یقے سے ڈسچارج کی جا سکے ۔ انہوں نے کہاکہ غیر ملکی شپنگ کمپنیاں آپنی من مانی قیمتیں لیتی ہیں اور جس کو چاہے کا رگو دے دیتی ہے اور ان کو کوئی ریگولیٹ بھی نہیں کر تا ۔ انہوں نے کہاکہ کا رگو کی تر جیحا ت اور اسکی برط بڑ ھا ئی جا ئے۔ کے پی ٹی آئل کمپنی کو تر جیح دیتی ہے ۔ پورٹ قاسم کی زمینو ں پر بجلی کی عدم دستیا بی اور انفراسٹر کچر کے معاملے کو بھی حال کیا جا ئے ۔