Press Release

ایف پی سی سی آئی کے قا ئم مقام صدر شیخ خالد تواب نے سید مُراد علی شاہ ، چیف منسٹر سندھ کو فیڈریشن ہاؤس میں آنے پر خو ش آمدید کر تیہو ئے کہا کہ

ایف پی سی سی آئی کے قا ئم مقام صدر شیخ خالد تواب نے سید مُراد علی شاہ ، چیف منسٹر سندھ کو فیڈریشن ہاؤس میں آنے پر خو ش آمدید کر تیہو ئے کہا کہایف پی سی سی آئی کے قا ئم مقام صدر شیخ خالد تواب نے سید مُراد علی شاہ ، چیف منسٹر سندھ کو فیڈریشن ہاؤس میں آنے پر خو ش آمدید کر تیہو ئے کہا کہ چیف منسٹر اس تقریب میں ہماری خصوصی دعوت پر تشریف لائے ہیں۔جو کہ ایف پی سی سی آئی اور سندھ میڈیکل کالج ڈاکٹرز ایسو سی ایشن Rehabilitation Response نے سندھ گو ر نمنٹ کو سات مو با ئیل ہیلتھ یو نٹس عطیہ کر نے کیلئے انعقاد کی ہے ۔ اس موقع پر اپو زیشن لیڈر خو رشید شا ہ ، وزیر صحت سندھ ڈاکٹر منتھار سکندر ، سیکریٹر ی ہلیتھ ڈاکٹر احمد بخش نا ریجو ، چیف ایگز یکٹو TDAP ایس ایم منیر، فیڈریشن کے نائب صدور ارشد فاروق، ذولفقار علی شیخ کے علاوہ سندھ میڈیکل کالج ڈاکٹرزایسوسی ا یشن کے صدر ڈاکٹر امجد گلزار ، قاسم نو ید ، خالد گلزار،زبیر طفیل ، گلزار فیروز ،شکیل احمد ڈھینگرا، مرزا اختیار بیگ ، عبدالسمیع خان ،وسیم وہرا ، امتیا ز شیخ اور دیگر بڑ ی تعداد میں بز نس کمیونٹی نے شر کت کی۔ خالد تواب نے کہا کہ میں سب سے پہلے سید مراد علی شاہ کو چیف منسٹر سندھ کا عہدہ سنبھالنے پر مبا ر ک باد پیش کرتا ہو ں اور امُید کر تا ہو ں کہ آپ کے دور میں ایف پی سی سی آئی اور سندھ حکومت کے درمیان تعلقات مزید مضبو ط ہو ں گے ۔میں ایف پی سی سی آئی کاآپ کومختصر تعارف یہاں بھی کر وانا چا ہو ں گا ۔ایف پی سی سی آئی پاکستان کی اپیکس ٹریڈ باڈی ہے جس کامقصد پاکستان کی صنعتی اور تجارتی سر گر میوں کو فروغ دینا ہے اور یہ پرائیویٹ سیکٹر کی Representativeباڈی ہے اس کے علاوہ میں آپ کو بتا نا چا ہو ں گا کہ سندھ میڈیکل کالج ایسوسی ایشن ،ڈاکٹرز کی ایک ایسو سی ایشن ہے جسکا مقصد پاکستان کے غریب عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے اس مقصد کیلئے یہ ایسو سی ایشن مختلف ریسو رسز کے ذریعے فنڈ اکھٹا کر تی ہے اور پھر انہیں عوامی کی فلاح و بہبو د اور انہیں صحت کی سہولتیں پہنچا نے کیلئے خرچ کر تی ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ آج ایف پی سی سی آئی اور یہ ایسو سی ایشن آپ کے ذریعے 7موبا ئیل ہیلتھ یونٹس عطیہ کر رہا ہے جسے ہم دوردراز کے علاقوں میں خاص طور پر سیلاب زدہ علاقوں میں صحت کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔میری آپ کے ذریعے مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ وہ موبائیل ہیلتھ یو نٹس کو مزید فر و غ دیں تاکہ غیر تر قی یافتہ اور دور دراز کے علاقوں کے لوگ اس سے مستفید ہوں۔خالد تواب نے کہا کہ میں آپ سے درخواست کر تا ہوں کہ سرکا ری اسپتالو ں کی صورتحال پر خا ص تو جہ دی جائے ہما رے یہاں مریض زیادہ تر حکومتی اسپتا لو ں میں سہو لیات نہ ہو نے با عث اپنی جا ن سے پا تھ دھو بیٹھتے ہیں اس کے علا وہ سند ھ کے دیہی علاقوں خاص طور پر تھر اور سندھ کے مختلف اضلاع میں صحت سے متعلق بہت سے مسائل در پیش ہے جن کو فور ی طور پر حل کیا جا نا چاہیے اور سر کا ری اسپتالوں کو جدید ٹیکنالوجی سے ہمکنار کیا جائے تاکہ غریب عوام کو صحت سے متعلق سہولیات کم لاگت میں فراہم ہو سکیں۔ا نہو ں نے مز ید کہا کہ میں موقع کی منا سبت سے فا ئدہ اٹھاتے ہوئے آپ کو انڈسٹری سے متعلق مختلف مسائل سے آگا ہ کر و ں گا۔ہما را انڈسٹریل سیکٹر جو کہ پاکستان کی معیشت میں21فیصدContributeکرتا ہے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کا ری کو متوجہ کرنے میں اہم کردارادا کر تا ہے اس وقت مختلف مسائل کا شکارہے جس میں سیکیورٹی ،انفراسٹرکچر،بجلی اور پانی کی کمی کے مسائل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کر ا چی کا اہم مسئلہ بن چکی ہے جس کی شکایت ہمارے ممبرزاکثرکرتے ہیں کہ ان کو اپنی فیکٹریوں کیلئے پانی منہ مانگے دامو ں خرید نا پڑتا ہے جوکہ انڈسٹری کی پیداواری لاگت کو بڑھا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پا نی کی آلو د گی بھی ایک اہم مسئلہ ہے جو کہ مختلف بیماریوں کا با عث ہے اور اسکے ساتھ ساتھ یہ آلو د گی ہما ری انڈسٹری کی پر و ڈکشن کو الٹی کو بھی متاثر کر تی ہے اس کیلئے آپ سےWater Treatment پلا نٹ لگا نے کی درخواست کر تا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو پانی کی کمی کا مسئلہ ہے جبکہ دوسری طرف حالیہ بارشوں میں آپ کر اچی کی صورتحال کا خو د ہی معائنہ کر چکے ہیں کہ کر ا چی سیوریج سسٹم کی کیا صورتحال ہے ۔سیوریج سسٹم خراب ہونے کی وجہ سے اکثر روڈ وں پر گندا پانی جمع رہتا ہے جو کہ نہ صرف ٹریفک جام کا با عث بنتا ہے جبکہ پیدل چلنے والوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔اس کے علاوہ آپ کر ا چی کی سڑکو ں کی صورتحال کو بھی دیکھ چکے ہو ں گے ،سڑکو ں کی خراب اور پیچیدہ صورتحال بھی ایک اہم مسئلہ ہے جسکی وجہ سے کر اچی میں ٹریفک جام رہتا ہے اور ٹریفک حا د ثات کی تعداد بھی آئے روز بڑھتی جا رہی ہے اس کیلئے نئی سڑکو ں کی تعمیر اور پرانی سڑکوں کی جلد مرمت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔ چیف ایگز یکٹو TDAP ایس ایم منیر نے کہاکہ سندھ اس وقت مختلف مسائل کا شکارہے جس میں انفراسٹرکچر،بجلی اور پانی کی کمی کے مسائل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی کر ا چی کا اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف تو پانی کی کمی کا مسئلہ ہے جبکہ دوسری طرف حالیہ بارشوں کی وجہ سے سڑکو ں کی خراب اور پیچیدہ صورتحال کا بھی ایک اہم مسئلہ ہے سیوریج سسٹم خراب ہونے کی وجہ سے اکثر روڈ وں پر گندا پانی جمع رہتا ہے جو کہ نہ صرف ٹریفک جام کا با عث بنتا ہے جبکہ پیدل چلنے والوں کو بھی متاثر کرتا ہے جسکی وجہ سے کر اچی میں ٹریفک جام رہتا ہے اور ٹریفک حا د ثات کی تعداد بھی آئے روز بڑھتی جا رہی ہے اس کیلئے نئی سڑکو ں کی تعمیر اور پرانی سڑکوں کی جلد مرمت پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔اس موقع پر سید مرا د علی شاہ چیف منسٹر سند ھ نے کہا کہ مو با ئل یو نٹس سند ھ حکومت کے لیے تحفہ ہے سند ھ حکومت کی پہلی تر جیح تعلیم اور صحت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں چا ہتا ہو ں کہ سند ھ کے کسی بچے کو علا ج کے لیے با ہر نہ جا نا پڑ ے کرا چی کے شہر ی سما جی کامو ں کے لیے سب سے زیا دہ پیسے دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسا ئل بہت زیا دہ ہیں جلد حل نہیں ہو سکتے لیکن سمت کا تعین ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دس رب سے کرا چی کی سڑ کو ں کی مر مت کی جا ئے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہر پندرہ دن میں سر گرمیو ں کی خو د پورٹ لو ں گا سب کو جلد نظر آجا ئے گا کہ سند ھ حکومت در ست سمت میں کام کر رہی ہے ۔


مہر عالم خا ن
قائمقا م سیکر یٹر ی جنرل ایف پی سی سی آئی