Press Release

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے سنیئر نائب صدر خالد تواب نے حکومت سند ھ کے چیف منسٹر سید قا ئم علی شاہ سے پُر زور مطا ل

کرا چی ( 22-07-2016) فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامرس اینڈ انڈ سٹر ی کے سنیئر نائب صدر خالد تواب نے حکومت سند ھ کے چیف منسٹر سید قا ئم علی شاہ سے پُر زور مطا لبہ کیا ہے کہ کرا چی میں امن وامان کی اطمینان بخش اور حو صلہ افزا ء صو رتحال کے خلا ف کسی بھی نا منا سب فیصلے سے گر یز کیا جا ئے اور بحا لی امن کے تحت فعا ل اور مو ثر کردار ادا کر نے والے سیکو رٹی اداروں کی کا رکردگی میں رکا وٹ بننے کی کو شش نہ کی جا ئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سند ھ بھتہ خو روں ، ٹا رگٹ کلرز اور اغوا ء کا روں کا راستہ دوبارہ کھولنے کی کو شش نہ کر ے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں قیا م امن کے تحت رینجرز کی بیمثال کا رکر دگی کو سراہتے ہو ئے کہا کہ مو جو دہ حالا ت میں رینجرز کو بے اختیا ر کیاگیا تو بھتہ خور پھر با اختیار ہو جا ئینگے ۔ امن وامان کے تحت کی گئیں کو ششو ں کو دھچکا پہنچے گا اور زیر زمین چھپے ہو ئے بھتہ خو ر اور اغوا ء کا ر دو بار ہ فعا ل ہو جا ئینگے ۔ انہوں نے نے کہا کہ تا جر برا دری رینجرز کی کا رکردگی سے پو ری طر ح مطمعین ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز کے ٹا رگٹڈ آپر یشن کی بد ولت شہر میں سر مایہ کا ری کی فضا ء بحال ہو رہی ہے ۔ کا روباری مراکز میں خوف کی فضا ختم ہو گئی ہے، بھتہ اور اغواء برا ئے تا وان کی وارداتوں میں 90فیصد سے زائد کمی واقع ہو گئی ہے ۔ جبکہ ٹا رگٹ کلنگ میں بھی واضح طو ر پر کمی واقع ہو نے سے شہر میں خو ف وہراس کی فضا کا خا تمہ ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سند ھ سیا سی مصلحتو ں کو بالا ئے طاق رکھ کر بحالی امن کو فو قیت دے اور کسی بھی فیصلے سے قبل شہر میں امن وامان کے مستقبل کو پیش نظر رکھا جا ئے مو جو دہ حالات سیکورٹی اداروں کی حوصلہ افزائی کا تقاضہ کرتے ہیں ۔ خالد تواب نے کہا کہ پاکستان رینجرز واحد ادارہ ہے جس نے شہر میں جرا ئم اور بد عنوانیوں کے خلاف تن تنہا بیڑ ہ اٹھا رکھا ہے ، سیا ست زدہ ، بے اختیار اور مفلو ج پو لیس قیا م امن کا بو جھ تنہا نہیں اٹھا سکتی ، رینجرز شہر یو ں کے ساتھ ساتھ پو لیس کی بھی حفا ظت کر رہی ہے ۔ انہوں نے مز ید کہا کہ رینجرز کو شہر میں اس وقت قیا م امن کی ذمے داریا ں تقو یض کی گئی تھیں جب لا قا نو نیت اور بد امنی کے بہتر ین حا لا ت میں تمام دینی ، سیا سی اور تجارتی جما عتیں فو ج کی تعینا تی کا مطا لبہ کر رہی تھیں ۔