Press Release

وفاقی سیکریٹری برائے ٹیکسٹائل عامر خان مروت نے کہا ہے کہ

کراچی( 18-07-2016) وفاقی سیکریٹری برائے ٹیکسٹائل عامر خان مروت نے کہا ہے کہ کراچی میں جلد ٹیکسٹائل سٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے لئے وفاق نے سندھ حکومت کو زمین کی مد میں تیس کروڑ روپے ادا کردیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے برآمدات میں اضافہ ہورہا ہے۔ فیڈریشن ہاؤس میں اعلٰی سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری برائے ٹیکسٹائل نے کہا کہ حکومت ٹیکسٹائل شعبہ کی ترقی کے لئے ہر ممکن اقدام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل شعبہ چالیس فیصد روزگار اور ساٹھ فیصد زر مبادلہ حاصل کررہا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے اجلاس میں سینئر نائب صدر شیخ خالد تواب، نائب صدر ذوالفقار علی شیخ، اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل اپیرل نقی باری، اکرام راجپوت، فرزانہ خان اور دیگر شریک تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ حکومت نے ٹیکسٹائل پالیسی دو ہزار پندرہ میں اس صنعت کی ترویج و ترغیب کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں جس میں اہم قدم اچھی کارکردگی پیش کرنے والی انڈسٹری کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا مزید یہ کہ ٹیکسٹائل صنعت کو آئیندہ پانچ سال کے دوران ڈی ایل ٹی ایل ، طویل مدتی سرمایہ کاری سہولت کے لئے ہر سال چھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ عامر خان مروت نے کہا کہ وفاق فیصل آباد کی طرز پر کراچی میں بھی ٹیکسٹائل سٹی کے قیام کے لئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قانونی معاملات کے بعد ٹیکسٹائل سٹی کی زمین الاٹ کردی جائے گئی ، ریفنڈ سے متعلق وفاقی سیکریٹری نے کہا کہ وزارت کے اعداد و شمار کے مطابق بیس ارب روپے کے ریفنڈ کلیم واجب الادا ہیں لیکن حقیقی ریفنڈ کلیمز کے سروے کے بعد ادائیگیاں کردی جائیں گی۔ قبل ازیں ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے صنعتکاروں کے تحفظات کے حوالے سے وفاقی سیکریٹری کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو نقصان پہنچانے کے لئے چھے سو کروڑ روپے کی لاگت سے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت بھارت نے ہماری برآمدات پر ضرب لگانے کا ارادہ رکھتا ہے لہذا وفاق اس حساس مسئلے کے حل کے لئے فوری طور پر وفاقی وزیر تعینات کرے۔ شیخ خالد تواب نے کہا کہ مختلف صنعتوں کے ریفنڈ کلیمز کی مد میں تین سو ارب واجب الادا ہیں حکومت فوری ادائیگی کے لئے اقدامات کرے۔ ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے کہا کہ کپاس کی کاشت کے علاقوں کو حکومت مراعات دے۔اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ٹیکسٹائل ایپیرل نقی باری نے کہا کہ زیرو ریٹ کے اعلان کے باوجود پیکینگ مٹیریئل پر تاحال سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے، انہوں نے وفاقی سیکریٹری کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبزول کراتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلز ٹیکس کے خاتمے کے لئے فوری ایس آر او جاری کیا جائے۔