Press Release

وفاقی ایوان ہائے صنعت وتجارت

(کراچی 4 جنوری 2018 ):وفاقی ایوان ہائے صنعت وتجارت (FPCC&I ) کے صدر غضنفر بلور نے تعمیراتی صنعت کو تباہی سے بچانے اور ملکی معیشت کی ترقی کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اپیل کی ہے کہ کراچی میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے مربوط پلان تشکیل دیا جائے تاکہ کراچی کے بلڈرز اور ڈیولپرز میں پائی جانے والی بے چینی کو ختم کیا جائے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر کا کہنا ہے کہ تعمیراتی صنعت کو کسی بھی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی حیثیت حاصل ہے، شہریوں کو رہائشی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیراتی صنعت پاکستان میں زراعت کے بعد سب سے زیادہ روزگاردینے والا شعبہ ہے جبکہ جی ڈی پی میں بھی اس شعبے کا اچھا خاصہ حصہ ہے۔ غضنفر بلور نے بتایا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کی غلط رپورٹ پر سپریم کورٹ نے کراچی میں کثیرالمنزلہ عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کی ہے۔انھوں نے واٹر بورڈ کی رپورٹ پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عمارتیں کیسی بھی ہوں وہ پانی نہیں پیتی ،پانی انسان پیتے ہیں وہ چاہے کثیرالمنزلہ عمارتوں میں رہائش پزیر ہوں یا جھونپڑیوں میں رہتے ہوں۔انھوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے اپیل کی کہ سپریم کورٹ کے احکام کی روشنی میں کراچی میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے جامعہ منصوبہ بندی کی جائے تاکہ عدالت عظمیٰ بلند عمارتوں کی تعمیر پر عائد پابندی پر نظر ثانی کرے۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں بلند عمارتوں کے تعمیر سے صرف بلڈرز اور ڈیولپرز یا تعمیراتی شعبے کو ہی نقصان نہیں ہوا بلکہ اس پابندی کے باعث 70 سے زائد دیگر ذیلی صنعتیں بھی بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ 900 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی بحالی اور لاکھوں افراد کے روزگار کو بچانے کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ کو میگا سٹی کے لیے فوری طور پر پانی کے مسئلے کے حل کے لیے منصوبے کا اعلان کرنا چاہیے۔انھوں نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے بھی ملکی معیشت کی ترقی اور تعمیراتی صنعت کو تباہی سے بچانے کے لیے مداخلت کی اپیل کی ہے۔غضنفر بلور نے کہا کہ سندھ بلڈنگز کنٹرول اتھارٹی(ایس بی سی اے) کی کارکردگی کا جائزہ لینے اور اس کی نگرانی کے لیے محکمہ ماسٹر پلان قائم کیا گیا تھا،تاہم یہ انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ محکمہ ماسٹر پلان کو ایس بی سی اے کے ہی ماتحت کردیا گیا ہے جو چوکیدار کو چور کے ماتحت کرنے کے مترادف ہے۔انھوں نے ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کراچی 60 فیصد زمین آباد جبکہ 40 فیصد غیر آباد ہے۔دوسری جانب 60 فیصد آباد زمین میں سے 58 فیصد زمین پر کچی آبادی ہے اور صرف 2 فیصد پر بلند عمارتیں ہیں ۔یہ تناسب میگا سٹی کے لیے انتہائی کم ہے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ کراچی کے بلڈرز اور ڈیولپرز ترقیاتی چارجز کی مد میں اربوں روپے حکومت کو ادا کررہے ہیں لیکن یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ شہر کی ترقی پر یہ رقم خرچ نہیں کی جارہی۔انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلند عمارتوں کے تعمیر پر پابندی کے باعث کم آمدنی والے طبقہ کا اپنا گھر ہونے کا خواب پورا ہونا مشکل ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر اقبال تھیم
سیکر یٹر ی جنر ل ایف پی سی سی آئی