Press Release

حکومت کپاس کی درآمد پر ۳ فیصد ڈیوٹی فوری ختم کرے، شیخ خالد تواب , کپاس کی کاشت میں 25 فیصد کمی وجہ سے بھی اسپننگ انڈسٹری کو 30 لاکھ کپاس کی گان

کراچی( 01-07-2016 ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صد شیخ خالد تواب نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین نثار محمد خان سے مطالبہ کیا ہے کہ خام کپاس کی درآمد پر عائد 3 فیصد ڈیوٹی فوری طور پر ختم کی جائے۔انھوں نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ خام کپاس اسپننگ کی صنعت کا بنیادی خام مال ہے اور پیداوار کی مجموعی لاگت میں خام کپاس کا 70 فیصد حصہ ہے۔خالد تواب نے کہا ماضی میں پاکستان، کپاس پیدا کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہوتا تھا اور اس وقت پاکستان کی برآمدات میں ٹیکسٹائل کی صنعت کا 60 سے 65 فیصد حصہ ہوتا تھا اور یہ صنعت انفرادی قوت میں 40 فیصد روزگار کے موقع فراہم کرتی تھی جبکہ جی ڈی پی میں ٹیکسٹائل انڈسٹری کا 8 فیصد حصہ تھا۔تاہم 2014-15 میں مقامی کپاس کی خراب فصل کے باعث اس کی پیداوار میں تقریبا 35 فیصد کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں کپاس کی ترقی کی شرح میں 0.5 فیصد کمی ہوئی ، اس کے علاوہ 2016-17 میں کپاس کی کاشت میں 25 فیصد کمی وجہ سے بھی اسپننگ انڈسٹری کو 30 لاکھ کپاس کی گانٹھو ں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ اجس سے اسپننگ کی صنعت خام کپاس کی درآمد پر مجبور ہوئی۔خالد تواب نے مزید کہا کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری پہلے ہی پاکستان میں کاروبار کرنے کی زیادہ لاگت اور توا نائی بحران سے متاثر ہے اور اب درآمد پر ڈیوٹی کو2 فیصد سے3 فیصد کرنے سے درآمدی یارن کی قیمت میں اضافہ ہوگا اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اپنے حریف ممالک سے مقابلے میں مشکلات پیش آئیں گی۔ خالد تواب کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی یورپین یونین سے علیحدگی سے بھی پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات پڑیں گے۔