Press Release

معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا ہے

کراچی( 22-06-2016 )معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے مقامی مسائل ، انفرا اسٹرکچر کے فقدان اور محصولاتی نظام کی خرابیوں سے برآمدات میں کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ برآمدات میں اضافے کے لئے ٹیکس کی شرح سنگل ڈیجٹ پر لانے کی ضرورت ہے۔ وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت کے کانفرنس روم میںْ معیشت کی حالت زار۔ہم کہاں جارہے ہیں کے عنوان پر معاشی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم میں کثیر الجہتی اور کثیر القومی سوچ کا فقدان ہے جس کے باعث معاشی ترقی کی رفتار سست روی کا شکارہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک ایک سالہ پالیسیوں سے آگے نہیں بڑھ سکتے ۔ تجارتی توازن نہ ہونے کے باعث درآمدات بڑھ رہی ہیں اور تیل ان درآمدات کا چالیس فیصد حصہ لے رہا ہے، جس کے ذریعے توانائی کی ضروریات پوری کی جارہی ہیں۔ ملک میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لئے تھر میں موجود کوئلے کے ذخائر سے استعفادہ کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ مستقبل کے بڑے آبی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لئے سترویں صدی کے نظام کو ترک کرتے ہوئے دور جدید کے فارمولے اپنانے ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم چاول ، چمڑے اور چادرکی برآمدات تک محدود رہے ہیں جس کے لئے ایکسپورٹر قصور وار نہیں بلکہ ایسی پالیسیاں ہیں جن کی وجہ سے معاشی توازن میں بگاڑ پیدا ہوا۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی کی پریزینٹیشن کی میزبانی ایف پی سی سی آئی کی قائمہ کمیٹی برائے کارپوریٹ ریلیشنز کی چیرپرسن مسز تاجور بیگ نے کی ۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور ارشد فاروق، ذوالفقار علی شیخ کے علاوہ گلزار فیروز، وسیم وہرہ، فاروق ڈاڈی، ناصر چاندنہ، شہزاد غوری، فرزانہ خان اور دیگر بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر قیصر نے ملک کی معاشی سرگرمیوں میں ایف پی سی سی آئی کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قیاس آرائیوں سے نکل کر معیشت کا پہیہ عملی طور پر چلانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر آنے کی ضرورت ہے۔ ملک میں گھروں کی قلت کے حوالے سے ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ صرف کراچی میں دو لاکھ کے قریب خالی پلاٹ موجود ہیں۔غریب کو سر چھپانے کے لئے آسان شرائط پر گھر فرہم کئے جائیں تو گھروں کی قلت پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ قبل ازیں ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر شیخ خالد تواب نے ڈاکٹر قیصر بنگالی کی ملک کے لئے گراں قدر خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت گزشتہ سال کے معاشی نمو کے احداف کی تکمیل میں ناکام رہی ہے لیکن صنعتی ترقی میں بہتری، افراط زر ، مالیاتی خسارے اور شرح سود میں کمی کے علاوہ ترسیلات اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ معیشت کے لئے حوصلہ افزا اور قابل تعریف اقدام ہیں۔ شیخ خالد تواب نے کہا کہ سی پیک سے بھر پور استعفادہ کرنے کے لئے بہترین حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بنیادی ڈھانچہ درست کرلیا جائے تو برآمدات کا گراف بھی بلند ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں لگائے گئے نئے ٹیکسسز پر حکومت سے بات چیت جاری ہے امید ہے جلد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔سینیٹر ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کے نتیجے میں معاشی ترقی کے لئے بنائے گئے منصوبے پش پشت ڈالے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سیاحت کے شعبے سے ریوینیو کی مد میں بڑا حصہ ملتا تھا اس شعبے پر خصوصی توجہ اور اقدامات کی ضرورت ہے۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر محمد حنیف گوہر نے کہا کہ ملک کو کرپشن کا ناسور دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔حنیف گوہر نے کہا کہ قرض در قرض اور سود کی دلدل میں دھنسنے کی بجائے ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جن سے ملک کے وسائل غیر ضروری اخراجات پر ضائع نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سرکاری اداروں کو مفادات کی آگ میں جھونک دیا گیا۔ صرف ٹی ڈیپ پر اکسٹھ ایف آئی آرز درج ہوئیں ، آج ایس ایم منیر کی سر پرستی میں ٹی ڈیپ کے معاملات درست ہوئے ہیں لیکن بعض نا عاقبت اندیش ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی ایوانوں تک چھوٹے تاجر سے لیکر ملک بھر کے صنعتی علاقوں کے مسائل پر ایف پی سی سی آئی کی قیادت ہر فورم پر بھرپور موقف پیش کررہی ہے۔محمد حنیف گوہر نے کہا کہ آئیندہ نسلوں کو کرپشن سے پاک معاشرہ دینے کے لئے سنجیدہ سوچ کے ساتھ انقلابی اقدامات کی ضرورت ہے۔