Press Release

وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے پاکستان ، چین آزاد تجارتی معاہدے اور چین سے آزادانہ درآمدات کے منفی اثرات سے متعلق آرا

کراچی( 20-06-2016) وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے پاکستان ، چین آزاد تجارتی معاہدے اور چین سے آزادانہ درآمدات کے منفی اثرات سے متعلق آراء طلب کی ہیں۔ ایف پی سی سی آئی کے کے ڈائریکٹر جنرل ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ کے دفتر سے جاری کردہ سرکلر میں پاک ، چائنہ بزنس کونسل کے تمام ممبران سے درخواست کی گئی ہے کہ پاکستان ۔چین ایف ٹی اے سے ملک کی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات سے متعلق اپنی رائے سے آگاہ کریں ۔ سرکلر میں مزید بتایا گیا ہے کہ چین سے درآمدات میں اضافے سے ملک کے تجارتی توازن کو خطرات لاحق ہیں اور کم قیمت مصنوعات کی درآمد سے پاکستان کی مقامی صنعت متاثر ہوگی۔سرکلر میں اس امر کا ادراک کیا گیا ہے کہ ایف ٹی اے سے قبل تجارتی توازن چین کے حق میں تھا، دوہزار سات میں پاکستان اور چین کی باہمی تجارت دو اعشاریہ پچانوے ارب امریکی ڈالر تھی جو بڑھ کر چودہ ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے اور یہ برامدی توازن مزید چین کے حق میں ہوگیا ہے۔ سرکلر میں مزید تفصیلات بتائی گئی ہیں کہ دوہزار سات میں پاکستان سے چین کو بو برآمدات ستاون کروڑ پچاس لاکھ ڈالر تھیں جو بڑھ کر دو اعشاریہ پانچ ارب ڈالر ہوگئی ہیں جبکہ اسی دورانیے میں پاکستان میں چین سے درآمدات تین اعشارئیہ تریپن ارب ڈالر تھی جو بڑھ کر سولہ اعشاریہ اڑتالیس ارب ڈالر ہوگئی ہے۔ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی مقامی صنعت کو تباہی سے بچانے کے لئے دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر نظر ثانی کرتے ہوئے ایسی اشیاء کی فہرست تیار کی جائے جن کی چین سے درآمد ممنوع ہو۔ ایف پی سی سی آئی کے ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ شعبہ کے سرکلر میں پاکستان۔ چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) کے ساتھ منسلک نظر ثانی شدہ ایف ٹی اے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے جس میں درآمدات، برآمدات، صحت، تعلیم، انشورنس، نقل وحمل، بینکنگ اور دیگر مالی خدمات شامل ہیں۔ سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ چین کی معاشی برتری سے پاکستان میں خدمات کے شعبوں میں کاروباری اداروں کو مشکلات پیش آسکتی ہیں جن کے تدارک کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے تجاویز درکار ہونگی۔