Press Release

فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری کے تیسرے ایگزیگٹیوکمیٹی کے اجلاس میں بجٹ تجاویز پاک چین اقتصادی راہداری اور حلال سیکٹر کی ایکسپورٹ

ایف پی سی سی آئی ہیڈ آفس کرا چی (19 اپریل2016 ) فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کی تیسری ایگزیکٹو کمیٹی اور غیرمعمولی جنرل باڈی کااجلاس کراچی میں منعقد ہوا جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخواہ کے اراکین نے لاہور اور اسلام آباد میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی ۔اجلاس کی صدارت فیڈریشن چیمبر آف کا مر س کے صدر عبدالرؤف عالم نے کراچی سے کی ۔ سینئر نائب صدر اور نائب صدوراور ممبران کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔
صدر عبدالرؤف عالم نے اجلاس کے دوران ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز سے متعلق ایوان کو بتایا کہ پورے پاکستان سے ایف پی سی سی آئی کی ممبر باڈیز کی جانب سے موصول ہونے والی بجٹ تجاویز اور سفارشات کا مسوّدہ فیڈرل فنانس منسٹر اسحاق ڈار اور ایف بی آر کے چئیرمین اور وزیر اعظم کے مشیر ھارون اختر کو ایک طویل ملاقات میں پیش کیا گیا۔ ایوان نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایف پی سی سی آئی کی بجٹ تجاویز پر غور کرے اور آنے والے بجٹ کا حصہ بنائے۔

عبدالرؤف عالم نے ایوان کو پاک چین اقتصادی راہداری سے متعلق ایف پی سی سی آئی کی کوششوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوے بتایا کہ یہ راہداری ہماری ملکی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس سلسلے میں وزراء اور متعلقہ اداروں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اجلاس کے دوران انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے دوران سب سے پہلے اپنی مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ ایوان نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ چونکہ پاک چا ئنا اقتصادی راہداری ملکی معیشت کیلئے ایک سنگ میل ہو گااور اس سلسلے میں بر وقت فیصلہ سازی اور ٹرانسپیرنسی کو ہر سطح پر ملحوظ خاطر رکھا جائے تاکہ ؂متنازعہ مسائل حل ہوں اور قو می سطح پر ہم آہنگی پیدا ہو۔ صدر نے ایوان کو بتایا کہ فیڈریشن چمبر اس سلسلے میں قومی سطح پر آگاہی اور ہم آہنگی پیدا کرنے اور اقتصادی راہداری کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کے تعاون سے ایک سیمینار جلد منعقد کریگی جسمیں پاکستان بھر سے بزنس کمیونٹی کو مدعو کیا جایئگا۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر نے ایوان کی توجہ حلال سیکٹر کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ تقریبا2.8ٹریلین امریکی ڈالر کی کل عالمی حلال مصنوعات کی تجارت میں پاکستان کاحصہ صرف28ملین امریکی ڈالر ہے جو کہ صرف 0.5 فیصد بنتا ہے جوکہ غیر تسلی بخش ہے۔ جبکہ پاکستان بنیادی طور پر حلال مصنوعات کی پیداواروالا ملک ہے اور عالمی حلال مارکیٹ میں خا طر خوا ہ کامیابی حاصل کر سکتاہے کیونکہ پاکستان کو وسطی ایشیا ،مشرق وسطی اور یورپی ممالک میں موجو د صارفین تک بر اہ راست رسائی حاصل ہے انہوں نے کہا کہ حلا ل انڈسٹری اس وقت عالمی سطح پر تقریبا دو بیلن مسلم اور غیر مسلم افراد کی تو جہ کا با عث بنی ہو ئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ھماری بزنس کمیونٹی کو اور حکومت کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ھے۔ اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی پنجاب حلال فوڈ اتھارٹی کے ساتھ ملکر باقاعدہ ایک معاہدہ ضبط تحریر لایا جائیگا اور حلال مصنوعات کی ایکسپورٹ اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائیگا۔

اجلاس میں ایران سے تجارت میں اضافہ پر زور دیتے ہوے کہا کہ ایران پر سے عالمی اقتصادی پابندیوں کے خا تمہ کے بعد ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی ایک بڑے تجا ر تی وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا۔ اور اس دوران بھی کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے انہوں نے بحثیت صدر ایف پی سی سی آئی ایرانی چیمبر آف کامر س انڈسٹری ما ئنز اینڈ ایگریکلچرکے ساتھ ایک MOUپر دستخط کئے جس کے تحت پاکستان ۔ایران مشترکہ چیمبر آف کامر س کی تشکیل ہو گی ۔اور MOUکے Follow upکیلئے جلد ہی وہ اپنے ساتھ ایک وفد ایران لیکر جا ئینگے۔

اسکے علاوہ ایف پی سی سی آئی کی اسلام آباد بلڈنگ کے بارے میں ایوان کو بتایا گیا کہ بلڈنگ میں تعمیر کا کام دوبارہ شروع کردیا گیا ہے اور انشاء الللہ اسی سال ایف پی سی سی آئی اسلام آباد کا آفس اس بلڈنگ میں شفٹ کر دیا جائیگا۔ دریں اثناء ایوان نے ایف پی سی سی آئی کے سالانہ مالیاتی اکاوئنٹس برائے سال 2015کی بھی منظوری دی۔


مہر عالم خان
قائممقام سیکریٹری جنرل
Back to Conversion Tool